امام حسین علیہ السلام کے بارے میں آئمہ علیھم السلام سے احادیث

1۔ رسول اللہ صہ فرماتے ہیں؛إنّلِقَتلِالحُسينِحَرارَةًفيقُلوبِالمُؤمِنينَلاتَبرُدُاَبَد۔

ترجمو؛ امام حسین ؑ کی شھادت ایسی آگ ہے مومنین کی دل میں جو کبھی خاموش نہی ہوگی (کبھی ختم نھی ہوگی  )[1]

2 ۔ امام حسین ؑ فرماتے ہیں؛ماأَهَونَالموتَعليسبيلِالعِزِّواِحياءِالحَقّ؛

ترجمو؛عزت و شرف کی راہ میں اور حق کو حیاتی بخشنے کے لیے مرنا کتنا آسان ہے[2]

3 ۔ امامحسينؑ فرماتے ہیں؛

يزيدرجلٌفاسقٌشاربُالخمرِقاتلُالنَّفسِالمُحتَرَمةِمُعْلِنٌبِالفسقِ،ومِثليلايُبايِعُمَثلَه.

یزید فاسق ، فاجر انسان ہے جو شراب خور اور محترم نفس کو قتل کرنے والا ، جس کا فسق اور فجور عام ہے ، میرے جیسا یزید جیسے کی ھرگز بیعت نھی کریگا۔[3]

4 ۔ امام حسین ؑ فرماتے ہیں :واللهِلَولَميَكُنفيالدّنيامَلجأٌوَلاَمأويًلَمابايعتُيزيدَبنَمُعاوية

خدا کی قسم ! اگر دنیا میں میرے لئے نہ کوئی پناھ گاہ ہو اورنہ کوئی  رھنے کی جگہ ہو ، پھر بھی ھرگز یزید بن معاویہ کی بیعت نہیں کروں گا۔[4]

5 ۔ امامحسينعليهالسلام فرماتے ہیں؛إنّيلاأعلمُأصحاباًأوفيولاخيراًمِناَصحابي۔

میں نے اپنے اصحاب سے بھترین وباوفا اصحاب کہیں نہی دیکھے۔[5]

6 ۔ امامحسينعليهالسلام فرماتے ہیں؛
لَيسَالموتُفيسبيلِالعِزِّاِلاّحياةًخالدةًوَلَيستِالحيوةُمَعالذُّلِّاِلاَّالمَوتَالّذيلاحيوةَمَعه!

عزت اور شرف کی راستے میں موت ھمیشہ رھنے والی زندگی ہے اور زندگی ذلت اور پستی کےساتھ زندگی کا فقدان اور موت کے علاوہ کچھ نہیں ہے [6]

امامحسينعليهالسلام فرماتے ہیں؛اَنَاقتيلُالعَبْرَةِ،لايَذكُرُنيمؤمنٌاِلاّبكي

میں رونے اور اشکوں  سے قتل کیا گیا ہوں کوئی مومن مجھے یاد نہیں کریگا مگر اس کے آنکھو سے اشک جارے ہونگے اور رونے لگے گا.[7]

8 ۔امامزينالعابدينعليهالسلام فرماتے ہیں؛

أَيُّمامؤمنٍدَمعَتعَيناهُلِقَتْلِالحُسينِعَلَيهالسّلامُوَمَنْمَعَهُحَتّييَسيلَعليخَدَّيهِبَوَّأَهُاللهُفيالجَنّةِغُرَفاً.

ھر مومن جو امام حسین ؑ اور اس کے اصحاب کی شھادت کے لئے اس طرح روئی کہ اس کے اشک رخسار پر جاری ہوتو خداوند اس کے لئے جنت میں اس کے درجات اور مقام کو بلند کریگا۔[8]

9۔امام زينالعابدين عليهالسلام فرماتے ہیں ؛

لايومَ!كَيَومِالحسينِعليهالسلام،اِزْدَلَفَاِلَيهثلاثونَاَلفَرَجُلٍيزَعمونَأنَّهممِنهذِهِالأُمَّةِ،كُلٌّيتقرَّبُالَياللهِعزَّوجلَّبِدَمِه

کوئی ایسا دن نہیں آئیگا جیسا دن امام حسین ؑ کے لیے مصیبت اور رنج والادن آیاجس دن تیس ھزار لڑنے والے( جنگجو ) جو مسلمان ہونے کی دعوہ کر رہے تھے، ان میں سے ھر ایک خدا کا تقرب حاصل کررہا تھا امام حسین ؑ کے خون سے۔[9]

10۔ پيامبرگرامياسلامصلياللهعليهوآلهوسلم

إنّحَولَقَبرِوَلَدِيالحُسينِاَربعةُآلافِمَلَكٍشَعْثاًغُبْراًيَبكونَعَلَيهِاِلييَومِالقيامة.

میرے بیٹے حسین ؑ  کی قبر کے اردگرد چھار ھزار فرشتہ خاک آلود بالوں کے ساتھ ہیں جو قیامت تک اس کے لئے گریہ کرتے رہیں گے۔[10]

ملتمس دعا: آقای مفکر علی ناریجو

منجانب :المنتظر فائونڈیشن ،طلاب امام المنتظر قم



[1] ۔ جامع‌احاديث‌ الشيعه، ج ١٢، ص ٥٥٦)

[2] ۔ اعيان‌الشيعه، ج ١، ص ٥٨١)

[3] ۔(بحار، ج ٤٤، ص ٣٢٥)

[4] ۔ ارشاد مفيد، ص ٢٠٢)

[5] منتهي‌الآمال، ج ١، ص ٢٤٦)

[6]    ادب الحسين(ع)، ص ١٥٩)

[7] ۔ بحار، ج ٤٤، ص ٢٧٩)

[8] ۔(بحار، ج ١٠٠، ص ٩٤)

[9] ۔ (بحار، ج ٢٢، ص ٢٧٤)

[10] ۔ (احقاق‌الحق، ج ١١، ص ٢٨٧

+ نوشته شده در  ۱۳۹۷/۱۰/۱۳ساعت 3:28  توسط مفکر علی ناریجو  | 

اربعین حسینی اھمیت ، اعمال ، زیارات

 مؤلف :مفکر علی

 ناشر ؛المنتظر فانونڈیشن قم

اربعین :اگر کوئی انسان اس دار فانی سے دار بقا کے طرف منقل ہو اور اس کو چالیس دن گذر جائیں تو چالیسویں دن اس کی یاد منائی جاتی ہیں جس کوعربی میں اربعین کہتے ہیں ۔

اربعین حسینی:۱۰ عاشور ۶۱ ھ ق ،کو امام حسین علیہ السلام اور اس کے ۷۲ ساتھیوں کو کربلا کے میدان میں یزیدی افواج نے شھید کیا۔ اور چالیس دن گذرنے کے بعد یعنی ۲۰ صفر کو پہلا چالیسواں (اربعین ) ہوا جس میں دو واقعہ رونما ہوئی ۔

۱۔ رسول گرامی اسلام صہ کے صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو اس وقت نابینا ہوچکے تھے عطیہ بن عوفی کے ہمراہ کربلا آیا اور امام علیہ السلام کی یاد منائی۔

۲ ۔اسیران کربلا شام سے رھا ہوکر کربلا آئے اور انہوں نے امام علیہ السلام کو یاد فرمایا۔لیکن اس میں چند اقوال ہیں جن کو مندرجہ ذیل ذکر کرتے ہیں ۔

بعض علما فرماتےہیں : اسیران کربلا سنہ 61 ہجری کو ہی شام  سے رہا ہو کر ، واقعہ کربلا کے 40 دن بعد یعنی 20 صفر کو کربلا کی سرزمین پر پہنچ گئے جب یہ قافلہ کربلا پہنچا تو جابر بن عبداللہ انصاری  اور بنی ہاشم  کے بعض افراد کو وہاں پایا پھر امام حسین علیہ السلام  کی زیارت کی ۔ [1]

بعض علماء فرماتے ہیں اگر شام اور عراق کی مسافت کو بالخصوص جو راستے اُس دور میں ہوا کرتے تھے نظر میں رکہا جائے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اسیران کربلا عاشورا کے 40 دن بعد دوبارہ کربلا واپس آ گئے ہوں کیوں کہ جاتے وقت کوفہ سے شام پھر ادھر سے واپسی مشکل نظر آتی ہیں ۔ [2]

بعض فرماتے ہیں اسیران کربلا اسی سال کو ربیع الاول کی اول میں کربلا سے ہوتے ہوئی مدینہ گئے تھے اور اربعین نہی پہنچ تھے ۔ دوسرے کچھ علماء قائل ہیں کہ خاندان عصمت وطہارت دوسرے سال شام سے رہا ہو کر دوسری اربعین پر کربلا پہنچے تھے۔

قاضی طباطبائی فرماتے ہیں کہ زیارت اربعین زیارت "مَرَدّ الرَّأس" بھی کہلاتی ہے۔ مَرَدُ الرأس" یعنی سر کا لوٹا دیا جانا، کیونکہ اس روز اسیران اہل بیت علیہھم السلام کربلا پلٹ کر آئے تو وہ امام حسین علیہ السلام  کا سر مبارک بھی شام  سے واپس لائے تھے جس کو انھوں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ دفن کیا۔

اربعین حسینی کی اھمیت

عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ صَلَاةُ الْإِحْدَى وَالْخَمْسِينَ وَزِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ وَالتَّخَتُّمُ بِالْيَمِينِ وَتَعْفِيرُ الْجَبِينِ وَالْجَهْرُ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ‏ ۔

ترجمہ: مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں: دن رات میں ۵۱ رکعات نماز پڑھنا ۲۔زیارت اربعین پڑھنا ۳۔انگشتر دائیں ہاتھ میں پہننا ۴۔سجدہ میں پیشانی مٹی پر رکہنا۵۔نماز میں بسم اللہ کو آواز کے ساتھ پڑھنا [3]

امام حسن عسکری علیہ السلام کی حدیث کے مطابق اربعین کے دن زیارت اربعین جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہیں پڑھنا مؤمن کی نشانیوں میں سے ایک ہے

اعمال اربعین

۱۔حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا

۲۔سورج طلوع ہونے کے بعد زیارت اربعین پڑھنا

۳۔ زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا (نماز کے بعد جو حاجات چاہو مانگو )

زیارت اربعین دو طرح کی منقول ہوئی ہیں

۱۔ شیخ طوسی نے کتاب تھذیب ومصباح میں صفوان جمال سے نقل کیا ہے جس میں صفوان کہتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا جب دن چڑ جائے تو اس زیارت کو پڑھو

 اَلسَّلامُ عَلى وَلِىِّ اللَّهِ وَ حَبیبِهِ اَلسَّلامُ عَلى خَلیلِ اللَّهِ وَ نَجیبِهِ اَلسَّلامُ عَلى صَفِىِّ اللَّهِ وَابْنِ صَفِیِّهِ اَلسَّلامُ عَلىَ الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهیدِ اَلسَّلامُ على اَسیرِ الْکُرُباتِ وَ قَتیلِ الْعَبَراتِ اَللّهُمَّ اِنّى اَشْهَدُ اَنَّهُ وَلِیُّکَ وَابْنُ وَلِیِّکَ وَ صَفِیُّکَ وَابْنُ صَفِیِّکَ الْفاَّئِزُ بِکَرامَتِکَ اَکْرَمْتَهُ بِالشَّهادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعادَةِ وَاَجْتَبَیْتَهُ بِطیبِ الْوِلادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَیِّداً مِنَ السّادَةِ وَ قآئِداً مِنَ الْقادَةِ وَ ذآئِداً مِنْ الْذادَةِ وَاَعْطَیْتَهُ مَواریثَ الاْنْبِیاَّءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلى خَلْقِکَ مِنَ الاْوْصِیاَّءِ فَاَعْذَرَ فىِ الدُّعآءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبادَکَ مِنَ الْجَهالَةِ وَ حَیْرَةِ الضَّلالَةِ وَ قَدْ تَوازَرَ عَلَیْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیا وَ باعَ حَظَّهُ بِالاْرْذَلِ الاْدْنى وَ شَرى آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الاْوْکَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدّى فى هَواهُ وَاَسْخَطَکَ وَاَسْخَطَ نَبِیَّکَ وَ اَطاعَ مِنْ عِبادِکَ اَهْلَ الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ وَ حَمَلَةَ الاْوْزارِ الْمُسْتَوْجِبینَ النّارَ فَجاهَدَهُمْ فیکَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتّى سُفِکَ فى طاعَتِکَ دَمُهُ وَاسْتُبیحَ حَریمُهُ اَللّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبیلاً وَ عَذِّبْهُمْ عَذاباً اَلیماً اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الاْوْصِیاَّءِ اَشْهَدُ اَنَّکَ اَمینُ اللهِ وَابْنُ اَمینِهِ عِشْتَ سَعیداً وَ مَضَیْتَ حَمیداً وَ مُتَّ فَقیداً مَظْلُوماً شَهیداً وَ اَشْهَدُ اَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ ما وَعَدَکَ وَ مُهْلِکٌ مَنْ خَذَلَکَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَکَ وَ اَشْهَدُ اَنَّکَ وَفَیْتَ بِعَهْدِاللهِ وَ جاهَدْتَ فى سَبیلِهِ حَتّى اَتیکَ الْیَقینُ فَلَعَنَ اللهُ مَنْ قَتَلَکَ وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ ظَلَمَکَ وَ لَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ اَللّهُمَّ اِنّى اُشْهِدُکَ اَنّى وَلِىُّ لِمَنْ والاهُ وَ عَدُوُّ لِمَنْ عاداهُ بِاَبى اَنْتَ وَ اُمّى یَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ اَشْهَدُ اَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فىِ الاْصْلابِ الشّامِخَةِ وَالاْرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ لَمْ تُنَجِّسْکَ الْجاهِلِیَّةُ بِاَنْجاسِها وَ لَمْ تُلْبِسْکَ الْمُدْلَهِمّاتُ مِنْ ثِیابِها وَ اَشْهَدُ اَنَّکَ مِنْ دَعاَّئِمِ الدّینِ وَ اَرْکانِ الْمُسْلِمینَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنینَ وَ اَشْهَدُ اَنَّکَ الاِْمامُ الْبَرُّ التَّقِىُّ الرَّضِىُّ الزَّکِىُّ الْهادِى الْمَهْدِىُّ، وَ اَشْهَدُ اَنَّ الاَْئِمَّةَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَةُ التَّقْوى وَ اَعْلامُ الْهُدى وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقى وَالْحُجَّةُ على اَهْلِ الدُّنْیا وَ اَشْهَدُ اَنّى بِکُمْ مُؤْمِنٌ وَ بِاِیابِکُمْ مُوقِنٌ بِشَرایِعِ دینى وَ خَواتیمِ عَمَلى وَ قَلْبى لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ وَ اَمْرى لاِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتى لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتّى یَاْذَنَ اللَّهُ لَکُمْ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لامَعَ عَدُوِّکُمْ صَلَواتُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَ على اَرْواحِکُمْ وَ اَجْسادِکُمْ وَ شاهِدِکُمْ وَ غاَّئِبِکُمْ وَ ظاهِرِکُمْ وَ باطِنِکُمْ۔

دوسری کیفیت

اس زیارت کو عطیہ بن عوفی سے نقل کیا گیا ہے جو جابر بن عبد اللہ انصاری کے سفر کا ساتھی تھا، وہ کہتا ہے میں جابربن عبد اللہ انصاری کے ساتھ تھا جب ۲۰صفر کو غاضریہ پہنچے تو ہم نے غسل کیا اور پاک لباس جو ساتھ لایا تھا پہنا پھر مجھ سے جابر نے پوچھا کوئی چیز خوشبو میں سے ہے ؟ تو میں نے کہا مجھے سعد ( ایک قسم کا عطر ہوتا ہے )ہے تو جابر نے مجھ سے اُس میں سے کچھ لیا اور اپنے سر اور بدن کو لگایااور ننگے پاؤں کربلا کے طرف چل پڑا یہاں تک کہ قبر امام حسین علیہ السلام پر پہنچ گیا اس وقت تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور اس کے بعد گر پڑا اور بیہوش ہوگیا اور جب ہوش میں آیا تو میں نے سنا کھ رھا تھا ۔ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا آلَ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا صَفْوَةَ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا خِیَرَةَ اللهِ مِنْ خَلْقِهِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا سَادَةَ السَّادَاتِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا لُیُوثَ [عَلَى لُیُوثِ‏] الْغَابَاتِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا سُفُنَ النَّجَاةِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا عَبْدِ اللهِ الْحُسَیْنَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ عِلْمِ الْأَنْبِیَاءِ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ [السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ إِبْرَاهِیمَ خَلِیلِ اللهِ‏] السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ إِسْمَاعِیلَ ذَبِیحِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُوسَى کَلِیمِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ عِیسَى رُوحِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اللهِب السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضَى السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ خَدِیجَةَ الْکُبْرَى السَّلامُ عَلَیْکَ یَا شَهِیدَ ابْنَ الشَّهِیدِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا قَتِیلَ ابْنَ الْقَتِیلِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اللهِ وَ ابْنَ وَلِیِّهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللهِ وَ ابْنَ حُجَّتِهِ عَلَى خَلْقِهِ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ وَ آتَیْتَ الزَّکَاةَ وَ أَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِوَرُزِئْتَ [وَ بَرَرْتَ‏] بِوَالِدَیْکَ وَ جَاهَدْتَ عَدُوَّکَ وَ أَشْهَدُ أَنَّکَ تَسْمَعُ الْکَلامَ وَ تَرُدُّ الْجَوَابَ وَ أَنَّکَ حَبِیبُ اللهِ وَ خَلِیلُهُ وَ نَجِیبُهُ [نَجِیُّهُ‏] وَ صَفِیُّهُ وَ ابْنُ صَفِیِّهِ یَا مَوْلایَ [وَ ابْنَ مَوْلایَ‏] زُرْتُکَ مُشْتَاقا فَکُنْ لِی شَفِیعا إِلَى اللهِ یَا سَیِّدِی وَ أَسْتَشْفِعُ إِلَى اللهِ بِجَدِّکَ سَیِّدِ النَّبِیِّینَ وَ بِأَبِیکَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ وَ بِأُمِّکَ فَاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِینَ أَلا لَعَنَ اللهُ قَاتِلِیکَ وَ لَعَنَ اللهُ ظَالِمِیکَ وَ لَعَنَ اللهُ سَالِبِیکَ وَ مُبْغِضِیکَ مِنَ الْأَوَّلِینَ وَ الْآخِرِینَ وَ صَلَّى اللهُ عَلَى سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ ۔

پھر امام علیہ السلام کی قبر مطھر کا بوسہ دیا اور چار رکعت نماز ادا کی اس کے بعد جناب علی اکبر کی قبر مطھر کے جانب بڑھا اور فرمایا؛ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَ ابْنَ مَوْلایَ لَعَنَ اللهُ قَاتِلِیکَ وَ لَعَنَ اللهُ ظَالِمِیکَ إِنِّی أَتَقَرَّبُ إِلَى اللهِ بِزِیَارَتِکُمْ وَ بِمَحَبَّتِکُمْ وَ أَبْرَأُ إِلَى اللهِ مِنْ أَعْدَائِکُمْ وَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ ۔

پھر جناب علی اکبر کی قبر مطھر کا بوسہ لیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر دوسرے شھداء کی قبور مطھر کے طرف رخ کر کہ کہا: السَّلامُ عَلَى الْأَرْوَاحِ الْمُنِیخَةِ بِقَبْرِ أَبِی عَبْدِ اللهِ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا طَاهِرِینَ مِنَ الدَّنَسِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا مَهْدِیُّونَ السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا أَبْرَارَ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَ عَلَى الْمَلائِکَةِ الْحَافِّینَ بِقُبُورِکُمْ أَجْمَعِینَ جَمَعَنَا اللهُ وَ إِیَّاکُمْ فِی مُسْتَقَرِّ رَحْمَتِهِ وَ تَحْتِ عَرْشِهِ إِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ وَ السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ ۔

اس کے بعد قبر مطھر حضرت عباس بن امیر المؤمنین کے طرف بڑھا جب وہاں پہنچا تو وہاں پر کھڑا ہوگیا اور کہا : السَّلامُ عَلَیکَ یا أبَا القاسِمِ ، السَّلامُ عَلَیکَ یا عَبّاسَ بنَ عَلِیٍّ ، السَّلامُ عَلَیکَ یَابنَ أمیرِ المُؤمِنینَ ، أشهَدُ لَقَد بالَغتَ فِی النَّصیحَةِ وأدَّیتَ الأَمانَةَ ، وجاهَدتَ عَدُوَّکَ وعَدُوَّ أخیکَ ، فَصَلَواتُ اللّهِ عَلى روحِکَ الطَّیِّبَةِ ، وجَزاکَ اللّهُ مِن أخٍ خَیرا۔ اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی اور اس کے بعد واپس چلا گیاْ

زیارت حضرت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام

سید عبد الکریم بن طاووس نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ وہ کہتا ہے میں امام صادق علیہ السلام کے ساتھ کوفہ میں وارد ہوا توامام نے فرمایا اونٹھ کو بٹھائو میرے بابے امیر المومنین کی قبر نزدیک ہے پھر امام علیہ السلام پیادہ ہوئی اور غسل کیا اور لباس تبدیل کرکہ پائوں کو ننگا کیا اور مجھے بھی ایسا کرنے کا حکم کیا پھر نجف کے طرف روانہ ہوئی پھر حکم کیا قدم چھوٹے چھوٹے اٹھائو اور سر کو نیچے کرو تاکہ خداوند تمھارے ہر قدم کے عیوض سو ہزار نیکی لکھے گا اور سو ہزار گناہ مٹائے گا اور سو ہزار درجہ بلند کرے گا اور سو ہزار حاجات پوری کرے گا اور تمھارے لئے شھید جس کو قتل کیا گیا ہو لکھے گا ۔

لحاظہ حضرت آرام اور تسبیح وتنزیہ کرتے چل رہے تھے یہاں تک کہ ایک اونچی جگہ تک پہنچے تو امام نے سیدھے اور الٹی طرف نگاہ کی امام کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی اس کے ساتھ لکیر کہینچی اور فرمایا؛تلاش کرو تو میں نے قبر کی جگہ تلاش کرلی اسی وقت امام علیہ السلام کی آنکہوں سے آنکھوں شروع ہوئی اور فرمایا:انا لله و انا الیه راجعون اور اس طرح پڑھتے رہے؛ السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ التَّقِیُّ السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا النَّبَأُ الْعَظِیمُ السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الصِّدِّیقُ الرَّشِیدُ السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْبَرُّ الزَّکِیُّ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ اللهِ عَلَى الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ أَشْهَدُ أَنَّکَ حَبِیبُ اللهِ وَ خَاصَّةُ اللهِ وَ خَالِصَتُهُ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اللهِ وَ مَوْضِعَ سِرِّهِ وَ عَیْبَةَ عِلْمِهِ وَ خَازِنَ وَحْیِهِ ۔ امام علیہ السلام نے اپنے آپ کو قبر سے ملایا اور فرمایا؛بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی یَا حُجَّةَ الْخِصَامِ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی یَا بَابَ الْمَقَامِ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی یَا نُورَ اللهِ التَّامَّ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ اللهِ وَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ مَا حُمِّلْتَ وَ رَعَیْتَ مَا اسْتُحْفِظْتَ وَ حَفِظْتَ مَا اسْتُودِعْتَ وَ حَلَّلْتَ حَلالَ اللهِ وَ حَرَّمْتَ حَرَامَ اللهِ وَ أَقَمْتَ أَحْکَامَ اللهِ وَ لَمْ تَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ وَ عَبَدْتَ اللهَ مُخْلِصا حَتَّى أَتَاکَ الْیَقِینُ صَلَّى اللهُ عَلَیْکَ وَ عَلَى الْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِکَ ۔اسی وقت حضرت امام صادق علیہ السلام بلند ہوئی اور چند رکعات نماز پڑھی اور فرمایا؛ای صفوان اگر کوئی اسی طرح زیارت کرے اور نماز پڑھی تو اپنے گھر واپس جائے گا درحالانکہ اس کے گناہ معاف کئے گئے ہونگے اور اس کی عبادت قبول کی گئی ہوں گی اور ھر ملائکہ جو امام کی زیارت کرکہ گئے ہوں گے ان کا ثواب اس کو ملے گا ۔ صفوان نے تعجب سے پوچھا ! تمام ملائکہ کا ثواب جو زیارت کر کہ گئے ہوں گے !!؟  فرمایا:ھاں ھر رات کو ستر قبیلہ ملائکہ میں سے حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کو آتے ہیں ۔پھر صفوان نے سوال کیا ۔ھر قبیلہ کتنے تعداد پر مشتمل ہے ؟امام نے فرمایا؛سو ہزار ملائکہ۔

امام علیہ السلام قبر کی طرف رخ کرتے ہوئی باہر آئے در حالانکہ فرما رہے تھے یَا جَدَّاهْ یَا سَیِّدَاهْ یَا طَیِّبَاهْ یَا طَاهِرَاهْ لا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْکَ وَ رَزَقَنِی الْعَوْدَ إِلَیْکَ وَ الْمَقَامَ فِی حَرَمِکَ وَ الْکَوْنَ مَعَکَ وَ مَعَ الْأَبْرَارِ مِنْ وُلْدِکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْکَ وَ عَلَى الْمَلائِکَةِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ

 زیارت امام حسین بن علی علیہ السلام

قال الامام الباقر علیه السلام : لو یعلم الناس ما فی زیارة قبر الحسین علیه السلام من الفضل لماتوا شوقاً‘‘
امام باقر علیه السلام فرماتے ہیں: ’’اگر لوگ جان جائیں کہ مرقد امام حسین علیه السلام کی زیارت میں کس قدر فضیلت پوشیدہ ہے تو وہ شوق زیارت میں بے حال ہوجائیں۔‘‘ [4]

السَّلامُ عَلَیْکَ یا حُجَّهَ اللّهِ وَابْنَ حُجَّتِهِ * السَّلامُ عَلَیْکَ یا قَتیلَ اللّهِ وَابْنَ قَتیلِهِ * السَّلامُ عَلَیْکَ یا ثارَ اللّهِ وَابْنَ ثارِهِ * السَّلامُ عَلَیْکَ یا وِتْرَ اللّهِ المَوْتُورَ فِی السَّماواتِ وَالأَرْضِ * اَشْهَدُ اَنَّ دَمَکَ سَکَنَ فی الْخُلْدِ وَاقْشَعَرَّتْ لَهُ اَظِلَّهُ العَرْشِ * وَبَکى لَهُ جَمیعُ الْخَلائِقِ * وَبَکَتْ لَهُ السَّماواتُ السَّبْعُ وَالاَْرَضُونَ السَّبْعُ وَما فیهِنَّ وَما بَیْنَهُنَّ وَمَنْ یَـتَـقَلَّبُ فی الْجَنَّهِ وَالنّارِ مِنْ خَلْقِ رَبِّنا * وَما یُرى وَما لا یُرى * اَشْهَدُ اَنَّکَ حُجَّهُ اللّهِ وَابْنُ حُجَّتِهِ *وَاَشْهَدُ اَنَّکَ قَتیلُ اللّهِ وَابْنُ قَتیلِهِ * وَاَشْهَدُ اَنَّکَ ثارُ اللّهِ وَابْنُ ثارِهِ *وَاَشْهَدُ اَنَّکَ وِتْرُ اللّهِ الْمَوْتُورُ فِی السَّماواتِ وَالاْرضِ * وَاَشْهَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَنَصَحْتَ وَوَفَیْتَ وَاَوْفَیْتَ * وَجاهَدْتَ فی سَبیلِ اللّهِ وَمَضَیْتَ لِلَّذی کُنْتَ عَلَیْهِ شَهیداً وَمُسْتَشْهَداً وَشاهِداً وَمَشْهُوداً * اَنَا عَبْدُ اللّهِ وَمَوْلاکَ وَفی طاعَتِکَ وَالْوافِدُ اِلَیْکَ * اَلْتَمِسُ کَمالَ الْمَنْزِلَهِ عِنْدَ اللّهِ وَثَباتَ الْقَدَمِ فِی الْهِجْرَهِ اِلَیْکَ * وَالسَّبیلَ الَّذی لا یَخْتَلِجُ دُونَکَ مِنَ الدُّخُولِ فی کَفالَتِکَ الَّتی اُمِرْتَ بِها * مَنْ اَرادَ اللّهَ بَدَأَ بِکُمْ * بِکُمْ یُبَیِّنُ اللّهُ الْکَذِبَ * وَبِکُمْ یُباعِدُ اللّهُ الزَّمانَ الْکَلِبَ * وَبِکُمْ فَتَحَ اللّهُ * وَبِکُمْ یَخْتِمُ اللّهُ * وَبِکُمْ یَمْحَقُ ما یَشآءُ * وَبِکُمْ یُـثْبِتُ * وَبِکُمْ یَفُکُّ الذُّلَّ مِنْ رِقابِنا * وَبِکُم یُدْرِکُ اللّهُ تِرَهَ کُلِّ مُؤمِن یُطْلَبُ بِها * وَبِکُمْ تُنْبِتُ الاْرْضُ اَشجارَها * وَبِکُمْ تُخْرِجُ الاْرْضُ ثِمارَها* وَبِکُمْ تُنْزِلُ السَّماءُ قَطْرَها وَرِزْقَها * وَبِکُمْ یَکْشِفُ اللّهُ الْکَرْبَ وَبِکُمْ یُنَزِّلُ اللّهُ الْغَیْثَ * وَبِکُمْ تُسَبِّحُ الأْرضُ الَّتی تَحْمِلُ اَبْدانَـکُمْ وَتَسْتَقِرُّ جِبالُها عَلى مَراسیها * اِرادَهُ الرَّبِّ فی مَقادیرِ اُمُورِهِ تَهْبِطُ اِلَیْکُمْ وَتَصْدُرُ مِنْ بُیُوتِکُمْ ۔وَالصّادِرُ عَمّا فُصِّلَ مِنْ اَحْکامِ العِبادِ * لُعِنَتْ اُمَّهٌ قَتَلَتْکُمْ * وَاُمَّهٌ خالَفَتْکُمْ * وَاُمَّهٌ۔ جَحَدَتْ وِلایَتَکُمْ * وَاُمَّهٌ ظاهَرَتْ عَلَیْکُمْ *وَاُمَّهٌ شَهِدَتْ وَلَمْ تُسْتَشْهَدْ * اَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذی ۔ جَعَلَ النّارَ مَأواهُمُ وَبِئْسَ وِرْدُ الْوارِدینَ * وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ * وَالْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعالَمینَ. پھر تین مرتبہ کہو: صَلّى اللّهُ عَلَیْکَ یا اَبا عَبْدِاللّهِ:پھر تین مرتبہ کھو اَنَا اِلَى اللّهِ مِمَّنْ خالَفَکَ بَریءٌ. اس کے بعد قبر علی بن الحسین جو باپ کے پائوں میں مدفون ہے کے نزدیک جائیں اور اور کہیں: السَّلامُ عَلَیْکَ یا بْنَ رَسُولِ اللّهِ * السَّلامُ عَلَیْکَ یَا بْنَ اَمیرِالْمُؤْمِنینَ، السَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ * السَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدیجَهَ وَفاطِمَهَ. پھر تین مرتبہ کہو: صَلَّى اللّهُ عَلَیْکَ، پھر تین مرتبہ کہو: لَعَنَ اللّه مَنْ قَتَلَکَ * پھر تین مرتبہ کہو: اَنَا اِلَى اللّهِ مِنْهُمْ بَریءٌ. پھر کھڑے ہوجائو اور اشارہ کرو شھداء کی طرف اور تین مرتبہ کہو: السَّلامُ عَلَیْکُمْ، اس کے بعد کہو: فُزْتُمْ وَاللّهِ فُزْتُمْ وَاللّهِ فَلَیْتَ اَنّی مَعَکُمْ فَاَفُوزَ فَوْزاً عَظیماً۔

زیارت حضرت عباس بن على علیه السّلام

شیخ اجّل، جعفر بن قولویه قمى نے ابو حمزه ثمالى سے نقل کیا ہے کہ: امام صادق علیه السّلام نے فرمایا: جب بھی چاہتے ہو کہ حضرت عبّاس بن على علیه السّلام کی زیارت کرو تو اس وقت فرات کے کنارے حضرت کے مزار کے سامنے کھڑے ہو کر کہو: سَلامُ اللهِ وَ سَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ وَ أَنْبِیَائِهِ الْمُرْسَلِینَ وَ عِبَادِهِ الصَّالِحِینَ وَ جَمِیعِ الشُّهَدَاءِ وَ الصِّدِّیقِینَ [وَ] الزَّاکِیَاتُ الطَّیِّبَاتُ فِیمَا تَغْتَدِی وَ تَرُوحُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ أَشْهَدُ لَکَ بِالتَّسْلِیمِ وَ التَّصْدِیقِ وَ الْوَفَاءِ وَ النَّصِیحَةِ لِخَلَفِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ الْمُرْسَلِ وَ السِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ وَ الدَّلِیلِ الْعَالِمِ وَالْوَصِیِّ الْمُبَلِّغِ وَ الْمَظْلُومِ الْمُهْتَضَمِ فَجَزَاکَ اللهُ عَنْ رَسُولِهِ وَ عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ عَنِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیْهِمْ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ بِمَا صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ وَ أَعَنْتَ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ لَعَنَ اللهُ مَنْ قَتَلَکَ وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ جَهِلَ حَقَّکَ وَ اسْتَخَفَّ بِحُرْمَتِکَ وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ حَالَ بَیْنَکَ وَ بَیْنَ مَاءِ الْفُرَاتِ أَشْهَدُ أَنَّکَ قُتِلْتَ مَظْلُوما وَ أَنَّ اللهَ مُنْجِزٌ لَکُمْ مَا وَعَدَکُمْ جِئْتُکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَافِدا إِلَیْکُمْ وَ قَلْبِی مُسَلِّمٌ لَکُمْ وَ تَابِعٌ وَ أَنَا لَکُمْ تَابِعٌ وَ نُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّى یَحْکُمَ اللهُ وَ هُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لا مَعَ عَدُوِّکُمْ إِنِّی بِکُمْ وَ بِإِیَابِکُمْ [وَ بِآبَائِکُمْ‏] مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَ بِمَنْ خَالَفَکُمْ وَ قَتَلَکُمْ مِنَ الْکَافِرِینَ قَتَلَ اللهُ أُمَّةً قَتَلَتْکُمْ بِالْأَیْدِی وَ الْأَلْسُنِ۔

 پھر ضریع میں وارد ہو اپنے آپ کو ضریع سے ملا کہ کہے :السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ للهِ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِمْ وَ سَلَّمَ السَّلامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ وَ مَغْفِرَتُهُ وَ رِضْوَانُهُ وَ عَلَى رُوحِکَ وَ بَدَنِکَ أَشْهَدُ وَ أُشْهِدُ اللهَ أَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَى مَا مَضَى بِهِ الْبَدْرِیُّونَ وَ الْمُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ الْمُنَاصِحُونَ لَهُ فِی جِهَادِ أَعْدَائِهِ الْمُبَالِغُونَ فِی نُصْرَةِ أَوْلِیَائِهِ الذَّابُّونَ عَنْ أَحِبَّائِهِ فَجَزَاکَ اللهُ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ وَ أَکْثَرَ الْجَزَاءِ وَ أَوْفَرَ الْجَزَاءِ وَ أَوْفَى جَزَاءِ أَحَدٍ مِمَّنْ وَفَى بِبَیْعَتِهِ وَ اسْتَجَابَ لَهُ دَعْوَتَهُ وَ أَطَاعَ وُلاةَ أَمْرِهِ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَالَغْتَ فِی النَّصِیحَةِ وَ أَعْطَیْتَ غَایَةَ الْمَجْهُودِ فَبَعَثَکَ اللهُ فِی الشُّهَدَاءِ وَ جَعَلَ رُوحَکَ مَعَ أَرْوَاحِ السُّعَدَاءِ وَ أَعْطَاکَ مِنْ جِنَانِهِ أَفْسَحَهَا مَنْزِلا وَ أَفْضَلَهَا غُرَفا وَ رَفَعَ ذِکْرَکَ فِی عِلِّیِّینَ [فِی الْعَالَمِینَ‏] وَ حَشَرَکَ مَعَ النَّبِیِّینَ وَ الصِّدِّیقِینَ وَ الشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِینَ وَ حَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقا أَشْهَدُ أَنَّکَ لَمْ تَهِنْ وَ لَمْ تَنْکُلْ وَ أَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَى بَصِیرَةٍ مِنْ أَمْرِکَ مُقْتَدِیا بِالصَّالِحِینَ وَ مُتَّبِعا لِلنَّبِیِّینَ فَجَمَعَ اللهُ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکَ وَ بَیْنَ رَسُولِهِ وَ أَوْلِیَائِهِ فِی مَنَازِلِ الْمُخْبِتِینَ فَإِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ۔

پھر حضرت کےسر کی طرف جائے اور دو رکعت نماز پڑے اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔پھر نماز کے بعد کہے؛

اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ لا تَدَعْ لِی فِی هَذَا الْمَکَانِ الْمُکَرَّمِ وَ الْمَشْهَدِ الْمُعَظَّمِ ذَنْبا اِلّا غَفَرْتَهُ وَ لا هَمّا اِلّا فَرَّجْتَهُ وَ لا مَرَضا اِلّا شَفَیْتَهُ وَ لا عَیْبا اِلّا سَتَرْتَهُ وَ لا رِزْقا اِلّا بَسَطْتَهُ وَ لا خَوْفا اِلّا آمَنْتَهُ وَ لا شَمْلا اِلّا جَمَعْتَهُ وَ لا غَائِبا اِلّا حَفِظْتَهُ وَ أَدْنَیْتَهُ وَ لا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَةِ لَکَ فِیهَا رِضًى وَ لِی فِیهَا صَلاحٌ اِلّا قَضَیْتَهَا یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

 پھر حضرت عباس ؑ کے پائوں کے طرف کھڑے ہوکر اس طرح پڑھو؛ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْفَضْلِ الْعَبَّاسَ ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَوَّلِ الْقَوْمِ إِسْلاما وَ أَقْدَمِهِمْ إِیمَانا وَ أَقْوَمِهِمْ بِدِینِ اللهِ وَ أَحْوَطِهِمْ عَلَى الْإِسْلامِ أَشْهَدُ لَقَدْ نَصَحْتَ للهِ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِأَخِیکَ فَنِعْمَ الْأَخُ الْمُوَاسِی فَلَعَنَ اللهُ أُمَّةً قَتَلَتْکَ وَ لَعَنَ اللهُ أُمَّةً ظَلَمَتْکَ وَ لَعَنَ اللهُ أُمَّةً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحَارِمَ وَ انْتَهَکَتْ حُرْمَةَ الْإِسْلامِ فَنِعْمَ الصَّابِرُ الْمُجَاهِدُ الْمُحَامِی النَّاصِرُ وَ الْأَخُ الدَّافِعُ عَنْ أَخِیهِ الْمُجِیبُ إِلَى طَاعَةِ رَبِّهِ الرَّاغِبُ فِیمَا زَهِدَ فِیهِ غَیْرُهُ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِیلِ وَ الثَّنَاءِ الْجَمِیلِ وَ أَلْحَقَکَ [فَأَلْحَقَکَ‏] اللهُ بِدَرَجَةِ آبَائِکَ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ اللهُمَّ إِنِّی تَعَرَّضْتُ لِزِیَارَةِ أَوْلِیَائِکَ رَغْبَةً فِی ثَوَابِکَ وَ رَجَاءً لِمَغْفِرَتِکَ وَ جَزِیلِ إِحْسَانِکَ فَأَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِینَ وَ أَنْ تَجْعَلَ رِزْقِی بِهِمْ دَارّا وَ عَیْشِی بِهِمْ قَارّا وَ زِیَارَتِی بِهِمْ مَقْبُولَةً وَ حَیَاتِی بِهِمْ طَیِّبَةً وَ أَدْرِجْنِی إِدْرَاجَ الْمُکْرَمِینَ وَ اجْعَلْنِی مِمَّنْ یَنْقَلِبُ مِنْ زِیَارَةِ مَشَاهِدِ أَحِبَّائِکَ مُفْلِحا مُنْجِحا قَدِ اسْتَوْجَبَ غُفْرَانَ الذُّنُوبِ وَ سَتْرَ الْعُیُوبِ وَ کَشْفَ الْکُرُوبِ إِنَّکَ أَهْلُ التَّقْوَى وَ أَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ۔

الوداع کرنے کے وقت اس طرح پڑھو: أَسْتَوْدِعُکَ اللهَ وَ أَسْتَرْعِیکَ وَ أَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ آمَنَّا بِاللهِ وَ بِرَسُولِهِ وَ بِکِتَابِهِ وَ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ اللهُمَّ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِینَ اللهُمَّ لا تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیَارَتِی قَبْرَ ابْنِ أَخِی رَسُولِکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ ارْزُقْنِی زِیَارَتَهُ أَبَدا مَا أَبْقَیْتَنِی وَ احْشُرْنِی مَعَهُ وَ مَعَ آبَائِهِ فِی الْجِنَانِ وَ عَرِّفْ بَیْنِی وَ بَیْنَهُ وَ بَیْنَ رَسُولِکَ وَ أَوْلِیَائِکَ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ تَوَفَّنِی عَلَى الْإِیمَانِ بِکَ وَ التَّصْدِیقِ بِرَسُولِکَ وَ الْوِلایَةِ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ عَلَیْهِمُ السَّلامُ وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَإِنِّی قَدْ رَضِیتُ یَا رَبِّی بِذَلِکَ وَ صَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ آخر میں دعا خیر کرو

زیارت  امین اللہ

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :یہ دعاھمارے شیعہ افراد میں سے ھر ایک امیر المومنین یا ھر معصوم کی زیارت کے وقت پڑھے یہ دعا بیشک صندوقچہ میں اوپر جاتی ہے اور امام زمانہ کو پیش کی جاتی ہے ؛اَلسَّلامُ عَلَيک يااَمينَ اللَّهِ فى‏ اَرْضِهِ، وَحُجَّتَهُ عَلى‏ عِبادِهِ، اَلسَّلامُ عَلَيک يا اَميرَ الْمُؤْمِنينَ، اَشْهَدُ اَنَّک جاهَدْتَ فِى اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ، وَعَمِلْتَ بِکتابِهِ، وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَآلِهِ، حَتّى‏ دَعاک اللَّهُ اِلى‏ جِوارِهِ، فَقَبَضَک اِلَيهِ بِاخْتِيارِهِ، وَاَ لْزَمَ اَعْدائَک الْحُجَّةَ مَعَ مالَک مِنَ الْحُجَجِ‏ الْبالِغَةِ عَلى‏ جَميعِ خَلْقِهِ، اَللّهُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسى‏ مُطْمَئِنَّةً بِقَدَرِک‏ راضِيةً بِقَضآئِک، مُولَعَةً بِذِکرِک وَدُعآئِک، مُحِبَّةً لِصَفْوَةِ اَوْلِيآئِک، مَحْبُوبَةً فى‏ اَرْضِک وَسَمآئِک، صابِرَةً عَلى‏ نُزُولِ بَلائِک، شاکرَةً لِفَواضِلِ نَعْمآئِک، ذاکرَةً لِسَوابِغِ آلآئِک، مُشْتاقَةً اِلى‏ فَرْحَةِ لِقآئِک، مُتَزَوِّدَةً التَّقْوى‏ لِيوْمِ جَزآئِک، مُسْتَنَّةً بِسُنَنِ اَوْلِيآئِک، مُفارِقَةً لِأَخْلاقِ اَعْدائِک، مَشْغُولَةً عَنِ الدُّنْيا بِحَمْدِک وَثَنآئِک، 

اپنے پہلو کو قبر مبارک پر رکہا اور فرمایا: اَللّهُمَّ اِنَّ قُلُوبَ الْمُخْبِتينَ اِلَيک والِهَةٌ، وَسُبُلَ الرَّاغِبينَ اِلَيک شارِعَةٌ، وَاَعْلامَ الْقاصِدينَ اِلَيک واضِحَةٌ، وَاَفْئِدَةَ الْعارِفينَ مِنْک فازِعَةٌ، وَاَصْواتَ الدَّاعينَ اِلَيک صاعِدَةٌ، وَاَبْوابَ الْإِجابَةِ لَهُمْ مُفَتَّحَةٌ، وَدَعْوَةَ مَنْ ناجاک مُسْتَجابَةٌ، وَتَوْبَةَ مَنْ‏ اَنابَ اِلَيک مَقْبُولَةٌ، وَعَبْرَةَ مَنْ بَکى‏ مِنْ خَوْفِک مَرْحُومَةٌ، وَالْإِغاثَةَ لِمَنِ اسْتَغاثَ بِک مَوْجُودَةٌ، وَالْإِعانَةَ لِمَنِ اسْتَعانَ بِک مَبْذُولَةٌ، وَعِداتِک لِعِبادِک مُنْجَزَةٌ، وَزَلَلَ مَنِ اسْتَقالَک مُقالَةٌ، وَاَعْمالَ‏ الْعامِلينَ لَدَيک مَحْفُوظَةٌ، وَاَرْزاقَک اِلَى الْخَلائِقِ مِنْ لَدُنْک نازِلَةٌ، وَعَوآئِدَ الْمَزيدِ اِلَيهِمْ واصِلَةٌ، وَذُنُوبَ الْمُسْتَغْفِرينَ مَغْفُورَةٌ، وَحَوآئِجَ خَلْقِک عِنْدَک مَقْضِيةٌ، وَجَوآئِزَ السَّآئِلينَ عِنْدَک مُوَفَّرَةٌ، وَ عَوآئِدَ الْمَزيدِ مُتَواتِرَةٌ، وَمَوآئِدَ الْمُسْتَطْعِمينَ مُعَدَّةٌ، وَمَناهِلَ الظِّمآءِ مُتْرَعَةٌ، اَللّهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعآئى‏، وَاقْبَلْ ثَنآئى‏، وَاجْمَعْ بَينى‏ وَبَينَ‏ اَوْلِيآئى‏، بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِىٍّ وَفاطِمَةَ، وَالْحَسَنِ وَالْحُسَينِ، اِنَّک وَلِىُ‏ نَعْمآئى‏، وَمُنْتَهى‏ مُناىَ، وَغايةُ رَجائى‏ فى‏ مُنْقَلَبى‏ وَمَثْواىَ 

کامل الزیارات میں اس زیارت کے بعد یہ کلمہ بھی لکھے گئے ہیں ؛اَنْتَ اِلهى‏ وَسَيدى‏ وَمَوْلاىَ، اِغْفِرْ لِأَوْلِيآئِنا، وَکفَّ عَنَّا اَعْدآئَنا، وَاشْغَلْهُمْ عَنْ اَذانا، وَاَظْهِرْ کلِمَةَالْحَقِّ وَاجْعَلْهَا الْعُلْيا، وَاَدْحِضْ کلِمَةَ الْباطِلِ وَاجْعَلْهَا السُّفْلى‏، اِنَّک عَلى‏ کلِّشَى‏ءٍ قَديرٌ۔

 زيارت جناب مُسْلم بن عقيل قدّس اللَّه روحَه

اَلْحَمْدُ للَّهِ‏ الْمَلِكِ الْحَقِّ الْمُبينِ، الْمُتَصاغِرِ لِعَظَمَتِهِ جَبابِرَةُ الطَّاغينَ، الْمُعْتَرِفِ‏ ۔بِرُبُوبِيَّتِهِ جَميعُ اَهْلِ السَّمواتِ وَالْأَرَضينَ الْمُقِرِّ بِتَوْحيدِهِ سآئِرُ الْخَلْقِ‏ ۔اَجْمَعينَ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى‏ سَيِّدِ الْأَنامِ، وَاَهْلِ بَيْتِهِ الْكِرامِ، صَلوةً تَقَرُّ بِها اَعْيُنُهُمْ،۔وَيَرْغَمُ بِها اَنْفُ شانِئِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْأِنْسِ اَجْمَعينَ، سَلامُ اللَّهِ الْعِلىِّ الْعَظيمِ،۔وَسَلامُ مَلائِكَتِهِ الْمُقَرَّبينَ، وَاَنْبِيآئِهِ الْمُرْسَلينَ، وَاَئِمَّتِهِ الْمُنْتَجَبينَ، وَعِبادِهِ‏۔الصَّالِحينَ، وَجَميعِ الشُّهَدآءِ وَالصِّدّيقينَ، وَالزَّاكِياتُ الطَّيِّباتُ فيما۔تَغْتَدى‏ وَتَرُوحُ عَلَيْكَ يا مُسْلِمَ بْنَ عَقيلِ بْنِ اَبيطالِبٍ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏۔وَبَرَكاتُهُ، اَشْهَدُ اَنَّكَ اَقَمْتَ الصَّلوةَ، وَآتَيْتَ الزَّكوةَ، وَاَمَرْتَ‏۔بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَجاهَدْتَ فِى اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ، وَقُتِلْتَ‏

عَلى‏ مِنْهاجِ الْمُجاهِدينَ فى‏ سَبيلِهِ، حَتّى‏ لَقيتَ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ وَهُوَ۔عَنْكَ راضٍ، وَاَشْهَدُ اَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللَّهِ، وَبَذَلْتَ نَفْسَكَ فى‏ نُصْرَةِ۔حُجَّةِ اللَّهِ وَابْنِ حُجَّتِهِ، حَتّى‏ اَتيكَ الْيَقينُ، اَشْهَدُ لَكَ بِالتَّسْليمِ وَالْوَفآءِ،۔وَالنَّصيحَةِ لِخَلَفِ النَّبِىِّ الْمُرْسَلِ، وَالسِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ، وَالدَّليلِ الْعالِمِ،۔وَالْوَصِىِّ الْمُبَلِّغِ، وَالْمَظْلُومِ الْمُهْتَضَمِ، فَجَزاكَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِهِ وَعَنْ‏۔اَميرِ الْمُؤْمِنينَ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، اَفْضَلَ الْجَزآءِ بِما صَبَرْتَ‏۔وَاحْتَسَبْتَ وَاَعَنْتَ، فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَكَ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ‏اَمَرَ بِقَتْلِكَ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ظَلَمَكَ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنِ افْتَرى‏ عَلَيْكَ، وَلَعَنَ‏اللَّهُ‏۔مَنْ جَهِلَ حَقَّكَ، وَاسْتَخَفَّ بِحُرْمَتِكَ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ بايَعَكَ وَغَشَّكَ،۔وَخَذَلَكَ وَاَسْلَمَكَ، وَمَنْ اَ لَبَّ عَلَيْكَ وَمَنْ لَمْ يُعِنْكَ، اَلْحَمْدُللَّهِ‏ِ الَّذى‏۔جَعَلَ النَّارَ مَثْويهُمْ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ، اَشْهَدُ اَنَّكَ قُتِلْتَ مَظْلُوماً،۔وَاَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ لَكُمْ ما وَعَدَكُمْ، جِئْتُكَ زائِراً عارِفاً بِحَقِّكُمْ، مُسَلِّماً لَكُمْ،۔تابِعاً لِسُنَّتِكُمْ، وَنُصْرَتى‏ لَكُمْ مُعَدَّةٌ حَتّى‏ يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ۔الْحاكِمينَ، فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لامَعَ عَدُوِّكُمْ، صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، وَعَلى‏۔اَرْواحِكُمْ وَاَجْسادِكُمْ، وَشاهِدِكُمْ وَغائِبِكُمْ، وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللَّهِ‏۔وَ بَرَكاتُهُ، قَتَلَ اللَّهُ اُمَّةً قَتَلَتْكُمْ بِالْأَيْدى‏ وَالْأَلْسُنِ. ‏۔حضرت کی ذریع کے طرف اشارہ کرو اور کہو:اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ، الْمُطيعُ للَّهِ‏ وَلِرَسُولِهِ‏۔وَلِاَميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ، اَلْحَمْدُ للَّهِ‏ وَسَلامٌ عَلى‏۔عِبادِهِ الَّذينَ اصْطَفى‏ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللَّهِ وَبَرَكاتُهُ۔وَمَغْفِرَتُهُ، وَعَلى‏ رُوحِكَ وَبَدَنِكَ، اَشْهَدُ اَنَّكَ مَضَيْتَ عَلى‏ مامَضى‏عَلَيْهِ۔الْبَدْرِيُّونَ، الْمُجاهِدُونَ فى‏ سَبيلِ‏اللَّهِ، الْمُبالِغُونَ فى‏ جِهادِ اَعْدآئِهِ، وَنُصْرَةِ

اَوْلِيآئِهِ، فَجَزاكَ اللَّهُ اَفْضَلَ الْجَزآءِ، وَاَكْثَرَ الْجَزآءِ، وَاَوْفَرَ جَزآءِ اَحَدٍ۔مِمَّنْ وَفى‏ بِبَيْعَتِهِ، وَاسْتَجابَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَاَطاعَ وُلاةَ اَمْرِهِ، اَشْهَدُ اَنَّكَ‏۔قَدْ بالَغْتَ فِى النَّصيحَةِ، وَاَعْطَيْتَ غايَةَ الْمَجْهُودِ، حَتّى‏ بَعَثَكَ اللَّهُ فِى‏۔الشُّهَدآءِ، وَجَعَلَ رُوحَكَ مَعَ اَرْواحِ السُّعَدآءِ، وَاَعْطاكَ مِنْ جِنانِهِ‏۔اَفْسَحَها مَنْزِلاً، وَاَفْضَلَها غُرَفاً، وَرَفَعَ ذِكْرَكَ فِى الْعِلِّيّينَ، وَحَشَرَكَ مَعَ‏۔النَّبِيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَدآءِ وَالصَّالِحينَ، وَحَسُنَ اوُلئِكَ رَفيقاً،۔اَشْهَدُ اَنَّكَ لَمْ تَهِنْ وَلَمْ تَنْكُلْ، وَاَنَّكَ قَدْ مَضَيْتَ عَلى‏ بَصيرَةٍ مِنْ‏اَمْرِكَ،مُقْتَدِياً بِالْصَّالِحينَ، وَمُتَّبِعاً لِلنَّبِيّينَ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ،۔وَبَيْنَ رَسُولِهِ وَاَوْلِيآئِهِ فى‏ مَنازِلِ الْمُخْبِتينَ، فَاِنَّهُ اَرْحَمُ الرَّاحِمينَ.۔

اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى‏مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَلا تَدَعْ لى‏ ذَنْباً....

زیارت عاشورا

زیارت عاشورہ ان دعائوں میں سے ہے جس کے پڑھنے کے بارے میں اکثر آئمہ علیھم السلام نے تاکید فرمائی ہے جو لوگ اس زیارت کو پڑھتے ہے ایسا ہی ہے جیسے امام حسین علیہ السلام سے بیعت مجدد کر رہے ہے

کتاب مصباح میں شیخ طوسی سے منقول ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہے :ہر وہ شخص جو اس زیارت کو ۱۰ عاشورہ کو پڑھے گا خداوند اس کو قیامت کے دن دس ہزار حج اور عمرہ اور دس ہزار جہاد کا ثواب عطا فرمائے گا

اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام رسول خدا صہ سے نقل کرتے ہے :اگر کوئی شخص امام حسین ؑ کے طرف رخ کر کہ زیارت پڑھے اور اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے ہر حاجت کو خداوند قبول فرمائے گا۔

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَباعَبْدِاللهِ ،َلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللهِ ، اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ اَمیرِالْمُؤْمِنین ، وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیّینَ۔اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا بْنَ فاطِمَهَ سَیِّدَهِ نِسٰاءِ الْعٰالَمینَ ،اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا ثارَاللهِ وَابْنَ ثارِەِ ، وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ،۔اَلسَّلامُ عَلَیْکَ وَعَلَى الْاَرْواحِ الَّتى حَلَّتْ بِفِنٰائِکَ ، عَلَیْکُمْ مِنّى جَمیعاً سَلاٰمُ اللهِ اَبَداً مٰا بَقیتُ وَبَقِىَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ،۔یا اَباعَبْدِاللهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّهُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصیبَهُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلىٰ جَمیعِ اَهْل ِالْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصیبَتُکَ فِى السَّمٰوٰاتِ عَلىٰ جَمیعِ اَهْلِ السَّمٰوٰاتِ،۔فَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً اَسَّسَتْ اَسٰاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ ، وَ اَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتى رَتَّبَکُمُ اللهُ فیهٰا ،۔وَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً قَتَلَتْکُمْ ، وَ لَعَنَ اللهُ الْمُمَهِّدینَ لَهُمْ بِالتَّمْکینِ مِنْ قِتالِکُم ،بَرِئْتُ اِلَى اللهِ وَاِلَیْکُمْ مِنْهُمْ ،وَ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَ اَتْباعِهِمْ وَ اَوْلِیٰائِهِمْ ،۔یا اَباعَبْدِاللهِ اِنّى سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ اِلى یَوْمِ الْقِیامَهِ،وَ لَعَنَ اللهُ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ،وَ لَعَنَ اللهُ بَنى اُمَیَّهَ قاطِبَهً وَلَعَنَ اللهُ ابْنَ مَرْجٰانَهَ ،وَ لَعَنَ اللهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللهُ شِمْراً ،وَ لَعَنَ اللهُ اُمَّهً اَسْرَجَتْ وَ اَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ،بِاَبى اَنْتَ وَاُمّى ، لَقَدْ عَظُمَ مُصٰابى بِکَ ،فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذى اَکْرَمَ مَقامَکَ ، وَاَکْرَمَنى بِکَ اَنْ یَرْزُقَنى طَلَبَ ثارِکَ مَعَ اِمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ اَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ ،۔اَللّٰهُمَّ ٱجْعَلْنى عِنْدَکَ وَجیهاً بِالْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ فِى الدُّنْیا وَ الاْخِرَهِ ، یا اَبا عَبْدِاللهِ اِنّى اَتَقَرَّبُ اِلى اللهِ وَ اِلىٰ رَسُولِهِ ،وَاِلىٰ امیرِالْمُؤْمِنینَ وَ اِلىٰ فاطِمَهَ ، وَاِلَى الْحَسَنِ وَ اِلَیْکَ بِمُوالاتِکَ ،۔وَبِالْبَرائَهِ مِمَّنْ قاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ ، وَ بِالْبَرائَهِ مِمَّنْ اَسَّسَ اَسٰاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِعَلَیْکُمْ وَ اَبْرَءُ اِلَى اللّهِ وَ اِلى رَسُولِهِ ،مِمَّنْ اَسَسَّ اَسٰاسَ ذٰلِکَ وَبَنىٰ عَلَیْهِ بُنْیانَهُ۔وَجَرىٰ فى ظُلْمِهِ وَجَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَعَلىٰ اَشْیٰاعِکُمْ ،بَرِئْتُ اِلَى اللَّهِ وَ اِلَیْکُمْ مِنْهُمْ وَاَتَقَرَّبُ اِلَى اللهِ ثُمَّ اِلَیْکُمْ بِمُوٰالاتِکُمْ وَمُوالاهِ وَلِیِّکُمْ ،۔وَبِالْبَرائَهِ مِنْ اَعْدائِکُمْ وَ النّاصِبینَ لَکُمُ الْحَرْبَ وَبِالْبَر ائَهِ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَاَتْباعِهِمْ ،۔اِنّى سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ وَ وَلِىٌّ لِمَنْ والاکُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عادٰاکُمْ ، فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذى اَکْرَمَنى بِمَعْرِفَتِکُمْ وَ مَعْرِفَهِ اَوْلِیٰائِکُمْ ،۔وَرَزَقَنِى الْبَرائَهَ مِنْ اَعْدائِکُمْ ، اَنْ یَجْعَلَنى مَعَکُمْ فِى الدُّنْیا وَ الْاٰخِرَهِ ،۔وَاَنْ یُثَبِّتَ لى عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِى الدُّنْیا وَالاْخِرَهِ وَ اَسْئَلُهُ اَنْ یُبَلِّغَنِى الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللَّهِ،۔وَ اَنْ یَرْزُقَنى طَلَبَ ثاریکُم مَعَ اِمامٍ مَهْدیٍ هُدىً ظاهِرٍ ناطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْکُمْ ، وَ اَسْئَلُ اللهَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّاْنِ الَّذى لَکُمْ عِنْدَەُ اَنْ یُعْطِیَنى بِمُصابى بِکُمْ ،۔اَفْضَلَ ما یُعْطى مُصاباً بِمُصیبَتِهِ،مُصیبَهً مٰا اَعْظَمَهٰا وَاَعْظَمَ رَزِیَّتَها فِى الْاِسْلامِ وَفى جَمیعِ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ،۔اَللّهُمَّ اجْعَلْنى فى مَقامى هٰذا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَهٌ وَمَغْفِرَهٌ ،اَللّهُمَّ اجْعَلْ مَحْیٰاىَ مَحْیٰا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ،۔وَ مَمٰاتى مَمٰاتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، اَللّهُمَّ اِنَّ هٰذا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو اُمَیَّهَ وَابْنُ آکِلَهِ الْاَکْبٰادِ اللَّعینُ ابْنُ اللَّعینِ ،۔عَلىٰ لِسٰانِکَ وَ لِسانِ نَبِیِّکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فى کُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فیهِ نَبِیُّکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ ،

اَللّهُمَّ الْعَنْ اَبا سُفْیانَ وَمُعٰوِیَهَ ،وَ یَزیدَ بْنَ مُعاوِیَهَ ، عَلَیْهِمْ مِنْکَ اللَّعْنَهُ اَبَدَ الاْبِدینَ،۔وَهٰذا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زیٰادٍ وَآلُ مَرْوانَ ، بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللهِ عَلَیْهِ،اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ [الاَلیمَ للّٰهُمَّ اِنّى اَتَقَرَّبُ اِلَیْکَ فى هٰذَالْیَوْمِ وَفى مَوْقِفى هٰذا وَ اَیّامِ حَیٰوتى بِالْبَراَّئَهِ مِنْهُمْ وَاللَّعْنَهِ عَلَیْهِمْ ، وَبِالْمُوالاتِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلامُ

سو مرتبہ کہیں؛اَللّهُمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَآخِرَ تابِعٍ لَهُ عَلى ذلِکَ ، اَللّهُمَّ الْعَنِ الْعِصابَهَ الَّتى جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ ، وَشٰایَعَتْ وَبٰایَعَتْ وَتٰابَعَتْ عَلىٰ قَتْلِهِ ، اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمیعاً

سو مرتبہ کہیں ؛اَلسَّلٰامُ عَلَیْکَ یٰا اَبٰا عَبْدِ اللهِ ، وَعَلَى الْاَرْوٰاحِ الَّتى حَلَّتْ بِفِنٰائِکَ ، عَلَیْکَ مِنّى سَلامُ اللهِ اَبَداً ما بَقیتُ وَبَقِىَ اللَّیْلُ وَ النَّهٰارُ ، وَلا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنّى لِزِیٰارَتِکُمْ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَیْنِ ، وَعَلٰى عَلِىِّ بْنِ الْحُسَیْنِ ، وَعَلىٰ اَوْلادِ الْحُسَیْنِ ، وَعَلىٰ اَصْحٰابِ الْحُسَیْن

سو مرتبہ کہیں؛اَللّٰهُمَّ خُصَّ اَنْتَ اَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنّى وَابْدَاءْ بِهِ اَوَّلاً ،ثُمَّ الثّانِىَ وَالثّالِثَ وَالرّابِعَ اَللّهُمَّ الْعَنْ یَزیدَ خامِساً ، وَالْعَنْ عُبَیْدَ اللهِ بْنَ زِیٰادٍ وَابْنَ مَرْجٰانَهَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْراً وَآلَ اَبى سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ اِلى یَوْمِ الْقِیمَهِ

سجدہ میں جاکر کہیں: اَللّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاکِرینَ لَکَ عَلٰى مُصابِهِمْ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى عَظیمِ رَزِیَّتى ، اَللّهُمَّ ارْزُقْنى شَفاعَهَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ وَثَبِّتْ لى قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَاَصْحابِ الْحُسَیْن ،ِ الَّذینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ. یارَبَّ الحُسَینِ ، بِحَقِّ الحُسَینِ اشفِ صَدرَالحُسَینِ ، بظُهورِالحُجَّ۔

[1] ۔ سید ابن طائوف کتاب لہوف۔

[2] ۔ محدث نوری اور شیخ عباس قمی

[3] ۔ شیخطوسی تہذیب الاحکام ج ۶ صہ ۵۲

[4] ۔ ثواب الاعمال ص۳۱۹

+ نوشته شده در  ۱۳۹۷/۱۰/۱۳ساعت 3:25  توسط مفکر علی ناریجو  | 
 

قرآن تحریف ناپذیری

مؤلف :آقای مفکر علی

فصل اول:تعریف لغوی و اصطلاحی  تحریف

تعریف لغوی تحریف:‌ تحریف از ریشه حرف به معناى گوشه کنار و طرف است۔جوهرى در تبیین معناى لغوى حرف می گوید: حرف کل شئ طرفه و شفیره و حدّه و منه حرف الجبل و هو أعلاه المحدّد ۔ حرف هر چیز کناره لبه و مرز آن است و از این ریشه است حدّ الجبل که به معناى لبه تیز آن است ۔

بعض دیگران گفتند معنی بگردانیدن سخن ،تغییر هر چیز عموما و تغییر کتاب خصوصا. راغب گفته: تحریف کلام آن است که آن را در گوشه‌ای از احتمال قرار دهی که بتوان به دو وجه حمل کرد.

 بعضی هم دیگر  گفتند تفسیر سخن برخلاف مقصود، یعنى کج کردن و گرداندن سخن از معناى اصلى اش مانند یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ ترجمو:کلمات خدا را به  معنی دگرگون می کنند[1] نیز به همین معنى تفسیر شده است، یعنى سخنان را از جایگاه اصلى اش برمى گردانند. مرحوم طبرسى در تفسیر این آیه مى گوید یعنى  قران را بر خلاف آنگونه که نازل شده تفسیر مى کنند و مقصود از  مواضع ، یعنى معانى و مقاصد.

تعریف اصطلاحی تحریف :الف:تغییر معناى سخن یعنى تفسیر   آن به گونه‌اى که موافق نظر مفسّر باشد چه ‌با واقعیت مطابق باشد یا نه تفسیر   به این معنى در مورد قرآن وارد شده و البته لطمه‌اى هم به عظمت قرآن نمى‌زند۔[2]

در اسلام به عنوان ادعایی جهت بیان تغییرات در توریت وانجیل گفته می‌شود و مسلمانان معتقدند که مطالب انجیل و تورات به دست یهودیان و مسیحیان تحریف شده‌اند یعنی برخلاف اصلش تغییر یافته‌اند.

 ب:تحریف  یعنی اضافه  کردن : اجماع بر خلاف این است البته ابن‌مسعود نسبت داده شده که گفته است معوّذتین  سوره ناس و فلق  از قرآن نیستند بلکه آن دو تعویذند۔

فصل دوم:اقسام تحریف قرآن

 به طور  کلی دو نوع تحریف  در مورد  کتاب آسمانی مطرح است یکی تحریف معنوى :تحریف کننده بدون کمترین دخل و تصرف در ساختار الفاظ و عبارتهاى قرآن آنها را براساس پیش‌فرضهاى باطل خود و به منظور تقویت آنها تفسیر  مى‌نماید و در حقیقت نگرش خود را بر قرآن تحمیل کند۔ تحریف معنوى را اصطلاحا تفسیر  به رأى می گویند دوم تحریف لفظى: دخل و تصرف در ساختار الفاظ و عبارتهاى قرآن است که این هم  دو نوع منقسم می شود۔

الف:تحریف لفظى به اضافه  : یعنى آیه یا سوره‌ را از پیش خود ساخته بر قرآن اضافه  کردن باشد و این ا فزونیها بى‌آنکه قابل تشخیص باشد در قرآن کنونى راه یافته باشد که  اضافه مشخص  و معلوم نباشد

ب:تحریف لفظى کم کردن :یعنى بخشى از کلمات آیات یا سوره‌هاى قرآن را بدون اینکه  قابل تشخیص باشد از آن حذف کرده باشد۔ و  این حذف مشخص  و معلوم نباشد

در قرآن کریم مانند همه کتابهای آسمانی دیگر  تحریف  معنوی ممکن است و اتفاق افتاده است مانند  برداشتهای  اشتباه  گروههایی مانند خوارج یاسوء استفاده  برخی خلفاء از  ایات قرآن . اما آنچه  مهم است و در  مورد قرآن  نفی می شود تحریف لفظی است. پس  بحث  مصونیت قرآن از تحریف نیز  در مورد تحریف لفظی خواهد بود. 

اما در قرآن کریم اساسا هیچ کسی  ادعا نکرده  چیزی به قرآن اضافه شده است ( زیر ا به علت معجزه بودن ایات قرآن امکان چنین تحریفی  وجود ندارد که در ادامه به آن اشاره میکنیم). پس شبهات پیرامون تحریف قرآن معمولا درباره تحریف به حذف هستند.

در اینکه قرآن کتابی است تحریف نه  شده  و متن فعلی  دقیقا همان است که از  لسان پیامبر اسلام 7 خارج شده بود اما متاسفانه  به شیعه اتهام زده شده که شیعیان قائل به تحریف قرآن هستند در حالیکه این نظر تعداد بسیار  اندکی از  علمای شیعه است که دلایلشان هم مخدوش و غیرقابل قبول است۔علمای مشهور شیعه از اول قایل به  عدم تحریف قرآن بوده است

فصل سوم:دلایل  عقلی برعدم تحریف قرآن :

الف: ضرورت اتمام حجّت‌ : درمیان مخلوق خداوند انسان به خاطر داشتن اختیار و علم از امتیاز خاصى برخوردار است و به خاطر این دلیل او موجودى مکلف است و به سبب همین تکلیف نیز نظام پاداش و کیفر براى اودر نظر گرفته شده است۔

بنابر این دلیل عقلى تکلیف زمانى بر انسان منجّز مى‌شود که کنار قدرت و اراده علم به تکلیف وجود داشته باشد: یعنى اوامر و نواهى الهى به او رسیده باشد و در صورتى‌که در ابلاغ این تکلیف خللى ایجاد شود تکلیف از او ساقط می شود ، خداوند حکیم قرآن را برای  هدایت بشر فرستاد  ،دین اسلام آخرین دین و قرآن آخرین کتاب آسمانی است ،اگر قرآن تحریف شود پیامبر  و کتاب آسمانی دیگری نیست که بشر را هدایت کند و لذا بشر گمراه می شود ، این نقض غرض  است و با حکمت خداوند ناسازگار است.  پس قرآن تحریف نشده و نخواهد شد.

همه فرقه هاى اسلامى، دیدگاه هاى خود را مستند به قرآن مى سازندو هر کس هر خواسته و فکرى دارد، تظاهر مى کند که از قرآن برگرفته است، ولى با تفسیر ى که عقیده او را تایید کند، آیه را مى گیرد و به طرف خواسته خویش مى کشاند و آن را طبق دلخواه معنى مى کند.

کم و زیادى در حرکت و حرف، با حفظ و مصونیت اصل قرآن. مثل  یطهرن  که هم با تشدید خوانده شده است، هم بدون تشدید. قرآن از این نوع تحریف هم مصون است، چون که قرائت رایج در هر دوره یعنى قرائت عاصم از حفص که به على(علیه السلام) متصل مى شود متواتر است و جز آن، اجتهادهاى نو پدیدى است که در روزگار پیامبر(صلى الله علیه وآله وسلم ) اثرى از آنها نبوده و به همین جهت متروک شده است و جز در کتاب هاى مربوط به قرائت و گاهى در زبان برخى قاریان براى اظهار تبحّر در قرائت، اثرى از آن نیست.

تغییر کلمه اى به جاى کلمه مرادف آن: مثل آن که به جاى  امضُوا  در آیه کلمه  اسرَعوا  بگذاریم. این به ابن مسعود نسبت داده شده و او مى گفت که خطا نیست اگر به جاى علیم، حکیم بخوانیم. ولى آن صحابى بزرگ برتر از آن است که چنین تهمتى به او بچسبد و چه هدف عقلایى مى تواند از این تغییر در کار باشد؟

 ب: اعجاز  و تحدی قرآن :

چیزهایى که با تحریف قران منافات دارد ،مسأله اعجاز است  اگر  کسی  می توانست ایاتی را به قرآن اضافه کند که مشخص نباشد پس باید آن ایات از  نظر بلاغت و معنا هم سطح قرآن باشد و این یعنی بشر می تواند مانند قرآن بیاورد و اگر اینگونه بود باید دشمنان قرآن که همواره در پی آوردن مانند قرآن بودند موفق می شدند تا سوره هایی مانند قرآن بیاورند در  حالیکه این اتفاق نیفتاده است. پس قطعا به قرآن کریم چیزی اضافه نشده است.

و علماء اعجاز را بزرگترین دلیل بر عدم تحریف قرآن دانسته‌اندچون اگر تحریف ممکن باشد آن وقت نمی تواند قرآن بعنوان معجزه یاد شود به‌ خاطر  اینکه معجزه چیزى است که دیگران از آوردن مثل آن عاجز باشند۔

فصل چهارم:دلایل نقلى بر عدم تحریف قرآن

الف:آیاتقرآن :۔آیه حفظ: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ  ،[3] ما قرآن را فرستادیم و آنرا حفظ و نگهدارى خواهیم نمود در جمله إِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ این سه اسلوب براى تأکید به کار رفته است: إنّ  ضمیر  له  و  لام   لحافظون  که نشان دهنده حفاظت حتمی است، ذکر و حفظ به صورت مطلق بیان شده و به زمان یا حالتى خاص مقیّد نشده است: یعنى قرآن در همه زمانها از هرگونه تحریف به، کم کردن  یا اضافه  کردن، یا تغییر در لفظ یا ترتیبى که آن را از ذکر خداوند بودن بیندازد مصون و محفوظ است،خداوند از  تحریف قرآن جلوگیری میکند و انرا  همواره حفظ  می نماید.

 مرحوم فیض کاشانى می گوید:و انا له لحافظون یعنى: ما قرآن را از تحریف و تغییر(تحریف لفظی و معنوی) محافظت مى‌کنیم۔فخر رازى در تفسیر  کبیرخود  پیرامون این آیه مى‌گوید: ما قرآن را از هر گونه تحریف و زیاد و کم شدن نگهدارى مى‌کنیم۔

۲۔ آ یه نفى باطل:وَ إِنَّهُ لَکِتابٌ عَزِیزٌ لا یَأْتِیهِ الْباطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لا مِنْ خَلْفِهم تَنْزِیلٌ ‌مِنْ‌ حَکِیمٍ‌ حَمِیدٍ۔  [4]  در حقیقت این کتابى است شکست ناپذیر که هیچگونه باطلى نه پیش رو و نه از پشت سر به سراغ آن نمى‌آید چرا که از سوى خداوند حکیم و شایسته ستایش نازل شده است۔

این آیه شریفه دلالت دارد بر اینکه باطل به حریم قرآن راه پیدا نمى‌کند۔ و امکان ندارد آیات مبارکه آن تبدیل و تغییر نماید۔ بنابر این تحریف که از مصادیق بارز و آشکار باطل است هرگز به حریم آن راه نخواهد یافت۔ مرحوم علامه طباطبائى مى‌فرماید:آمدن باطل بسوى قرآن به این معنى است که باطل در آن راه پیدا کند یا بعضى از اجزاء آن از بین برود و باطل شود یا همه‌اش بطوریکه بعضى از حقائق و معارف حقه آن غیر حقه شود۔ و یا بعضى از احکام و شرایع و نیز توابع آن احکام از معارف اخلاقیه و یا همه آنچه که گفته شد لغو گردد بطوریکه دیگر قابل عمل نباشد۔

ب:روایات معصومین علی هم  السلام : ۱۔ قال رسول الله: تَکْثرلَکمْ الْأحادیث بَعدى فإذا روِىَ لکم عنّى حدیثُ فأعْرِضوه على کتابِ الله فما وافَقَ کتابَ اللّهِ فاقْبَلوه و ما خالفَ فَردّوه۔بعد از من روایات زیادى براى شما نقل خواھند شد۔ لذا وقتى روایتى از من نقل شود آنرا بر قرآن عرضه کنید اگر موافق کتاب خدا (قرآن) باشد بپذیرید و اگر مخالف کتاب باشد از آن صرف نظر کنید۔

۲۔ حدیث ثقلین: این حدیث از طرفین متفق علیه است۔ تمسک به قرآن و عترت را واجب مى‌دانند، اگر قرآن تحریف شده بود هدایت کننده نیست و نباید به آن تمسک کنیم لیکن این احادیث تمسک به قرآن را تا ابد واجب و ضرورى مى‌دانند پس پندار تحریف قرآن باطل است۔

کلینى از امام باقر(علیه السلام) روایت مى کند:  قرآن یکى است و از سوى خداى یکتا نازل شده است و اختلاف از سوى راویان پدید مى آید ، از این رو قرائت غیر مشهور را در نماز، مجاز نمى شماریم.

در بسيارى از روايات معتبرى كه از امامان معصوم(عليهم السلام) به ما رسيده مى خوانيم: براى پى بردن به درستى يا نادرستى روايات، به خصوص هنگامى كه تضادّى در ميان روايات مشاهده مى كنيد، آنها را بر قرآن عرضه بداريد، آنچه موافق قرآن است صحيح است، به آن عمل كنيد و آنچه مخالف قرآن است رها سازيد: «اعرِضُوهُمَا عَلَى كِتَابِ اللهِ فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللهِ فَخُذُوهُ وَ مَا خَالَفَ كِتَابَ اللهِ فَرُدُّوهُ اين دليل روشنى بر عدم تحريف قرآن است،

فصل پنجم الف:شواهد تاریخیبرعدمتحریف قرآن

۱۔اهتمام پیامبر اکرم 7: اهتمام پیامبر اکرم 7به حفظ و ضبط قرآن از مسلّمات تاریخى است۔ آن حضرت 7هنگام دریافت وحى به لحاظ اشتیاق وافر به فراگیرى آنها به تکرار آیات مى‌پرداخت‌

۲۔ اهتمام صحابه : صحابه در زمان حیات پیامبر 7نسبت به حفظ و حراست قرآن این اهتمام پس از رحلت پیامبر 7توسط آنان و تابعان و سایر مسلمانان استمرار یافت۔

۳۔  ممانعت از اضافه  کردن حکم رجم‌:یکى از خلفاء  معتقد بود آیه رجم جزء قرآن بوده و در زمان پیامبر 7تلاوت مى‌شده است اما هنگام تدوین قرآن در آن ثبت نشده است ازاین ‌رو دوران خلافت خود سخت کوشید تا آیه مدعایى خویش را در مصحف بنگارد اما صحابه و مسلمانان زیر بار آن نرفتند۔

۴۔ شیخ طوسی  در  تفسیر  التبیان  : قرآن مورد تحریف واقع نشده و نخواهد شد و اعتنایی به قول  حشویه  مبنی بر تحریف قرآن نمی شود. زیرا مستند شان برخی از اخبار آحاد است که گمان کرده اند معتبر می باشند و اصلا قول به تحریف قرآن لایق قرآن نیست۔

 ۵۔ جلوگیرى از حذف واو از قرآن‌:سیوطى نقل کرده است: عمر اعتقاد داشت که در آیه السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهاجِرِینَ وَ الْأَنْصارِ وَ الَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسانٍ۔  [5] واو  نباید در وَ الَّذِینَ باشد، زید گفت: خوب شما با فشار و زور مى‌گویید حال ما چه بگوییم! عمر گفت: ابىّ بن کعب را حاضر کنید تا نظر او را بدانیم۔ وقتى ابىّ آمد عمر موضوع را از او پرسش کرد و ابىّ بن کعب گفت: وَ الَّذِینَ  درست است: نه الذین  با این سخن دیگر عمر مخالفتى نکرد۔

۶۔  اجماع بر خلاف این است. البته به ابن مسعود نسبت داده شده که گفته است  معوّذتین  (سوره ناس و فلق) از قرآن نیستند، بلکه آن دو تعویذند. به گروهى از خوارج نیز نسبت داده اند که منکر آن شده اند که سوره یوسف جزء قرآن باشد و آن را داستانى عشقى مى دانستند که جایز نیست از وحى باشد. ولى هر دو نسبت ثابت نشده است. اگر آن چه ابن مسعود گفته درست باشد، تحدّى قرآن به سوره باطل خواهد شد، زیرا انسانى که به او وحى نشده است، دو سوره مثل سوره هاى کوتاه قرآن آورده است تحریف به کاهش و افتادگى عمدى یا اشتباهى از قرآن:خواه آنچه کم شده است یک حرف باشد، یا یک کلمه، یا یک جمله، یا یک آیه یا یک سوره.

این نوع تحریف نیز در قرآن راه ندارد زیرا قرآن کریم از نخستین روزى که مسلمانان به آن ایمان آوردند، مورد توجه و نخستین مرجع آنان بوده است و به خواندن و حفظ کردن و نگاشتن و ضبط اهمیت مى دادند. راه یابى تحریف به چنین کتابى ممکن نیست مگر با قدرتى که به زور بخواهد با قرآن بازى کند و چیزى از آن بکاهد. نه امویان و نه عباسیان، آن قدرت را نداشتند، چون قرآن میان قاریان و حافظان پخش شده بود و انتشار حتى یک نسخه در سطح وسیع، مى توانست این آروزى پلید را به صورت ناشدنى درآورد

 علاوه بر این سوابق تاریخی ، تحریف نا پذیر راگواهی می دهند مانند: در صحیفه سجادیه امام سجاد علیه السلام) آن را بیان کرده و گفته است ، فرازهایى از دعاهاى زبور آل محمد صحیفه‌ى سجادیه است مانند دعاى  ۴۲ همیطور خطبه‌ فدک حضرت فاطمه الزهر  سلام الله علیها  که بخش قابل توجهى از آن به بیان ویژگى‌هاى قرآن پرداخته و سپس خطبه‌ها و نامه‌هاى امام علىA در نهج البلاغه ‌که قرآن را به گونه‌اى معرفى کرده‌اند که امکان دست‌برد در ساختار آن را منتفى مى‌سازد۔

۷۔ شیخ صدوق در کتاب الاعتقادات : هر کس تحریف قرآن را به ما نسبت دهد دروغگو است.شیخ مفید در اوایل المقالات  هیچ کلمه و آیه و سوره ای از قرآن نه کم شده و نه بر آن افزوده شده و آنچه راجع به قرآن مکتوب به خط امام علی ـ علیه السلام ـ گفته شده منظور این است که تفسیر  و معنی و تأویلی که حضرت نموده است فعلا در این قرآن موجود وجود ندارد و این مطلب ارتباط به کم یا زیاد شدن از متن قرآن ندارد.

(ب) :بررسی نسخه شناسان  غربی (غیر مسلم)

در  میان  نسخه های  موجود قرآن کریم هیچ اختلافی  وجود ندارد و قرآن رایج میان  گروههای  مختلف مسلمانان  تفاوتی با هم ندارند. نکته مهم اینکه قرآن موجود با نسخه های  قدیمی موجود در  کتابخانه های معتبر نیز  تفاوتی  ندارد. حتی  نسخه شناسان غیرمسلمان  و غربی هم این را تایید کرده اند.

مثلا دکتر دیوید توماس از دانشگاه بیرمنگام  : قدیمی‌ترین نسخه موجود از چند سوره قرآن، نسخه‌ایست که با ۹۵ درصد احتمال به سال‌های ۵۶۸  تا ۶۴۵ میلادی مربوط می‌شود و در سال ۲۰۱۵ در کتابخانه دانشگاه بیرمنگام کشف شده‌است، و این نشان می‌دهد که متن امروزی قرآن دارای هیچ یا کمترین تغییر است.

فرانسیس ادوارد پیترز، مورخ و استاد دانشگاه نیویورک، می‌گوید که تلاش‌ها برای بازسازی متن اولیه و دست نخورده قرآن در آکادمیای غربی چیزی که تفاوت برجسته‌ای با متن حال حاضر قرآن داشته باشد را بدست نداده‌است..... آنچه امروز در دستان ما است چیزی است که از زبان محمد( صلی الله علیه و آله)  خارج شده‌است.

فصل ششم الف: بررسی  دلایل علامه محدثنوری

الف:بررسی  دلایل علامه  محدثنوری (قایل به تحریف) و نقد  بر روایات که  دلالتبرتحریفدارند  

میرزا حسین نوری ( محدث نوری ) در  کتاب  فصل‌الخطاب فی تحریف کتاب رب‌الارباب   ۱۱۲۲،  روایت  در  مورد تحریف آورده که مرحوم آیت‌الله معرفت در کتاب  عدم تحریف قرآن  این روایت‌ها را دسته‌بندی کرده،ومی‌گوید از این تعداد ۸۱۵ روایت از کتاب‌های مجهولی آورده شده است   و معتبر  نیست . و ۱۰۷  روایت نیز مربوط به اختلاف قرائت‌هاست که قرائت غیر از متن است. حدود ۲۰۰ روایت از کتاب‌های معتبر نقل شده که هیچ‌‌کدام دلالتی بر مدعای محدث نوری ندارند. بعضی از این روایات تأویل و بعضی دیگر تفسیر  و توضیح آیات قرآن هستند؛ چراکه گاهی امام  تفسیر  یا باطن آیه را بیان می‌کند مانند بسیاری از این روایات برای توضیح و بیان شان نزول هستند و  استدلال  کننده سخن امام را هم اشتباها جزئی از  ایه تصور نموده است . مانند روایتی در کافی ج ۳ ص ۲۷۱ باب فرض الصلوه روایت ۱:  عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الصَّلَاةِ فَقَالَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَ النَّهَارِ فَقُلْتُ فَهَلْ سَمَّاهُنَّ وَ بَيَّنَهُنَّ فِي كِتَابِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ ص- أَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى‏ غَسَقِ اللَّيْلِ  وَ دُلُوكُهَا زَوَالُهَا فَفِيمَا بَيْنَ دُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ أَرْبَعُ صَلَوَاتٍ سَمَّاهُنَّ اللَّهُ وَ بَيَّنَهُنَّ وَ وَقَّتَهُنَّ وَ غَسَقُ اللَّيْلِ هُوَ انْتِصَافُهُ ثُمَّ قَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً فَهَذِهِ الْخَامِسَةُ وَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهارِ  وَ طَرَفَاهُ الْمَغْرِبُ وَ الْغَدَاة....   برخی افراد قسمتهای  زرد رنگ  را  جزو قرآن پنداشتند در  حالیکه توضیح و تبیین ایه قران هستند و نه جزئی از ایه قرآن.

کتاب فصل الخطاب فی اثبات التحریف که  در آن هزار روایت ذکر کرده است اولاً اسناد این روایات مخدوش و ضعیف هستند ولی بقیه که  سند درست هستند آنها دلالت بر تحریف قرآن ندارند بلکه آنها متعلق به  قرائت هستند که  موضوع تحریف و قرائت فرق دارند و این كتاب که بوسیله شيعه به نام حاجى نورى نوشته شده بود در سال ۱۲۹۱ هجرى قمرى به چاپ رسيد و به مجرّد طبع، از سوى بزرگان حوزه علميّه نجف اشرف مورد انكار قرار گرفت و دستور جمع آورى آن صادر شد و كتاب هاى متعدّدى در ردّ آن نوشته شد

(ب) تهمت تحریف به شیعه

باوجود شمار فراوانى از روایات تحریف در جوامع روایى اهل سنت و نیز پذیرش نسخ تلاوت در قرآن که به معناى وقوع تحریف به کاستى در قرآن است و همچنین دفاع از درستى چنین تحریفى از سوى برخى عالمان اهل سنت شگفتا که شمارى از نویسندگان مغرض و تفرقه‌انداز اهل سنت همسو با فرقه منحرف وهابیّت- این گروه با شیعه و اهل بیت علیهم السّلام دشمنى دیرینه و عداوت کورى دارند- به صورتى گسترده شیعه و عالمان شیعى را طرفدار تحریف قرآن معرفى مى‌کنند: حتى پاره‌اى از مفتیان به استناد این تهمت شیعه را- العیاذ باللّه- کافر و مهدور الدم شناسانده‌اند۔

محدّث نورى تنها عالم شیعى است که ظاهرا بر تحریف قرآن پاى فشرده است لیکن در اعتراف نامه‌اى که پس از نگاشتن کتاب (فصل الخطاب فى تحریف کتاب رب الأرباب) منتشر ساخت ادعاى خود را تصحیح کرد۔ شاگرد برجسته او شیخ آقابزرگ تهرانى در این باره چنین گفته است

قایل تحریف درقرآن مصنفین اهل تسنن از جمله آنها ابن الخطيب مصرى از اهل سنّت است كه كتاب الفرقان فى تحريف القرآن را نوشته كه در سال ۱۹۴۸ ميلادى (۱۳۶۷ هجرى قمرى) انتشار يافت و دانشگاه الازهر به موقع متوجّه شد و نسخه هاى آن را جمع آورى و معدوم كرد، ولى تعدادى از آن به طور غير قانونى به دست اين و آن افتاد است

ج:تحریف در لهجه تعبیر

لهجه هاى قبایل مختلف در تلفظ حرف یا کلمه از نظر حرکات و اداى آن مختلف بود. در زبان هاى دیگر نیز چنین است. مثلاً در زبان فارسى در ایران،  قاف  را چهارگونه تلفظ مى کنند، تا چه رسد به کلمه ها از نظر حرکات و حروف. در آیه وَمَنْ اَرادَ الاْخِرَهَ وَسَعى لَها سَعْیَها[6] بعضی از قاریان طبق همان لهجه ها  سعى  را  سعى  مى خواندند. این نوع از تحریف در قرآن راه نیافته است، چون مسلمانان در زمان خلیفه سوم برخى اختلافات را در تلفظ یا تغییر بعضى از کلمات بدون تغییر در معنى دیدند، تصمیم گرفتند همه قرائت ها و مصحف ها را یکى کنند و غیر از آن را از بین ببرند. در نتیجه تحریف به معناى یاد شده از بین رفت و همه بر لهجه قریش متفق شدند.

فصل هفتم :تحریف قرآن از دیدگاه اهل تسنّن‌

الف:احادیثى از اهل سنت که دلالت بر حذف سوره‌ها و آیاتى از قرآن دارد:

۱۔از عمر بن خطاب نقل شده است که مى‌گوید: إنّا کنّا نقرأ فیما نقرأ من کتاب اللّه: أن لا ترغبوا ۔ ما مى‌خواندیم از کتاب خدا این آیه را: أن لا ترغبوا عن ابائکم ۔۔۔  مفاد این آیه است که روگردان نشوید از پدران خود زیرا این کفر است که از پدران خود روگردان شوید۔

۲۔یکى از سوره‌هاى قرآن کریم سوره احزاب است۔ و ۷۳ آیه دارد۔ ولى روایاتى در کتاب‌هاى اهل سنت هست که مضمون آنها این است که این سوره بیش از این مقدار آیه داشته است: از جمله این که عروة بن زبیر  از عایشه درباره سوره احزاب چنین نقل مى‌کند:

وقتى سوره احزاب در عصر و زمان رسول خدا صلّى اللّه علیه و آله قرائت مى‌شد دویست آیه بود: ولى هنگامى که عثمان قرآن را نوشت جز همین مقدارى که اکنون موجود است نیافت۲۵

(ب) دیدگاه‌ اهل سنت درباره‌ى صحت و سقم سندهاى این احادیث ۔

درباره‌ سندهاى این احادیث و رد و ایراد اختلاف فروان است ۔ برخى این احادیث را ساخته‌ى‌ دروغ‌پردازان و جمعى دیگر در مقابل آنان سند این احادیث را در نهایت صحت با وثاقت رجال آنها معرفى مى‌کنند: به ویژه اگر این احادیث در صحیحین آمده باشند۔ اهل سنت به فراخور هر یک از مضامین این احادیث راه حلّى ارائه کرده‌اند: لیکن پاسخ معروف آنان به این احادیث حمل آنها بر نسخ التلاوة  است تا از یک سو از حریم قرآن دفاع شود و از سوى دیگر موجب طعن در کتاب‌ها و صحاح و مسانید نگردد۔

نکته مهم این است که  ببینیم چرا در میان برخی  شیعیان  این اعتقاد به وجود تحریف ایجاد شده است . ظاهرا انگیزه قائلان به تحریف  اثبات امامت ائمه اطهار  علیهم السلام  در قرآن بوده است و آنها معتقد بودند بیشترین تحریفها، در آیات مرتبط با امامان صورت گرفته است، مثلاً گفته شده که در موارد بسیاری نام امامان  علیهم السلام  در قرآن بصراحت آمده بوده که حذف شده است. ظاهرا  علمایی مانند محدث نوری با این پیش زمینه فکری  روایات را بررسی  کردند و لذا دچار  سوء برداشت شدند.

 منابع

1)   قرآن، نهج البلاغه

2)   صحیفه سجادیه

3)   ویکی پیدیا

4)     پایگاه اطلاع رسانی حوزه  علمیه  قم

5)  جوهرى اسماعیل بن حماد الصحاح بیروت دارالعلم للملایین 1410ق اول ماده حرف ج4 ص1342۔

6)  ۔سبحانى جعفر سیماى عقائد شیعه جواد محدثى تهران نشرمشعر 1386ش ص151۔

7)  ۔جوادى آملى عبدالله نزاهت قرآن از تحریف قم اسراء 1382ش اول ص17-18

8) معرفت محمد هادى صیانة‌القران‌من‌التحریف قم 1386ش اول ص39۔

9) فیض کاشانى ملامحسن تفسیر الصافى تهران صدر 1415ق دوم ج1 ص898۔

10)    طباطبایى سید محمد حسین المیزان فى تفسیر القرآن قم جامعه مدرسین حوزه علمیه قم 1417ق پنجم ج 17 ص 398

11)   نجارزادگان فتح الله تحریف ناپذیرى قران تهران مشعر 1384 اول ص29۔

12)  نجارزادگان فتح الله تحریف ناپذیرى قران تهران مشعر 1384 اول ص118و121۔
کافى، ج 2، ص 630، حدیث 12.

13)  فتح البارى در شرح بخارى، ج 8، ص 571

14)   ملل  و  نحل، شهرستانى، ج 1، ص 128

15)   گردآوری از کتاب: سیماى عقاید شیعه، آیت الله جعفر سبحانی، مترجم: جواد محدثی، نشر مشعر، چاپ: دارالحدیث، بهار 1386، ص 151.

16)    شیرازی  آیة الله ناصر مکارم   ،شیعه پاسخ می گوید ناشر:مدرسه الامام علی بن ابی طالب علیه السلام،چاپ  ۱۳۸۵

یزدی آیة الله مصباح آموزش عقاید قران شناسی..............



[1] ۔نساء آیه ۴۶

[2] ۔ آیت الله معرفت براى تعریف اصطلاحى هفت معنى را ذکر کرده است

[3]۔ سوره حجرا ۹

[4] ۔سوره فصلت ۴۲

[5] ۔ سورہ توبہ آیہ ۱۰۰

[6] ۔ سوره اسرا آیه ۱۹

+ نوشته شده در  ۱۳۹۷/۱۰/۱۳ساعت 3:21  توسط مفکر علی ناریجو  | 

شعائر حسینی(زنجیر زنی ءَ قما زنی جی باری م مراجع جی فتوا  )

   مؤلف؛عبدالرسول محسني نجف اشرف. 5 محرم الحرام 1439هه.

 تنظیم  وترتیب؛مفکر علی ناریجو

 ناشر؛المنتظر فائونڈیشن قم

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَٰٓائِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى ٱلْقُلُوبِ؛۽ جيڪو خدا جي نشانين جي تعظيم ڪندو ته ڪو شڪ نه آهي ته اها به دلين جي پرهيزگاري جي دليل آهي[1]

شعائر ،شعيره جي جمع آهي ،جنهن جي لغت ۾ معنى،ما ندب الشرع اليه و امر بالقيام به ، هر اهو ڪم شريعت جنهن جي انجام ڏيڻ طرف دعوت  ڏئي.

لشَّعَائِر الدِّينِيَّةِ مَظَاهِرُ العِبَادَةِ وَتَقَالِيدُهَا وَمُمَارَسَتُهَا ، شعائر دينيه انهن جڳهن کي چيو ويندو آهي جتي عبادتون  انجام ڏنيون وڃن ، يا شريعت جي پيروي ڪئي وڃي۔[2]

علماءِ عامه جي شعائر مان مراد

حسن بصري؛پوري دين کي شعائر چئبو آهي.

قرطبي؛ شعائر انهن شين سان مخصوص آهي،جن کي الله سائينءَ عبادت لاءِ خاص ڪيو آهي،۽ عام ماڻهن لاءِ نشاني طور قرار ڏنو آهي.

جصاص؛ هر اها شئ جنهن بابت الله تعالى امر يا نهي ڪئي هجي اها شعائر الله آهي،۽ ڪجھ وري شعائر کي اعمالِ حج سان مخصوص ڪيو آهي۔[3]

خلاصو؛ جنهن ڪم سان خداوند متعال جي ياد تازه ٿئي اهو شعائر الله آهي.

علماءِ شيعه شعائرِ حسينيه جي اصطلاح ذڪر ڪندا آهن،جنهن مان مراد هر اهو ڪم جنهن سان امام حسين ؑ  يا واقعه ڪربلا جي ياد تازه ٿئي.

علماءِ خاصه جي شعائر مان مراد

ميرزا نائيني ؒ پنهنجي فتوى ۾ شعائر حسيني کي شعائر الله سان تعبير ڪيو آهي.شيخ محمد حسين ڪاشف الغطاءَ شعائر حسيني کي هن آيت ذريعي ثابت ڪيو آهي۔

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى ٱلْقُلُوبِ،۽ جيڪو خدا جي نشانين جي تعظيم ڪندو ته ڪو شڪ نه آهي ته اها به دلين جي پرهيزگاري جي دليل آهي [4] بلڪه  شيخ ابوالقاسم ميرزا قميؒ،صاحب عروه الوثقى سيد محمد ڪاظم يزدي،۽ سيد جمال گلپيگاني نجفي ، مٿين آيت کان علاوه هنن آيتن ذريعي به استدال ڪيو آهي ته شعائر حسينيه، شعائر الله آهن۔

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ

اهي ماڻهوءَ گهرن ٿا ته پنهنجن واتن سان خدا جي نور کي وسائن پر الله پنهنجي نور کي ڪامل ڪرڻ کانسواءِ ٻئي ڳالهه قبول نٿو ڪري جيتوڻيڪ ڪافر ناپسند ڪن۔[5]بس هر اهو پروگرام جنهن ۾ پيغام پروردگار نشر ٿئي، انهن دشمنن جي مقابلي ۾ جيڪي ان کي مٽائڻ چاهن ٿا،اهو پيغام واجب آهي.

فِى بُيُوتٍ أَذِنَ ٱللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ يُسَبِّحُ لَهُۥ فِيهَا بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ

انهن گهرن ۾ جن لاءِ خدا حڪم ڏنو آهي ته انهن جي عزت ڪئي وڃي،۽ انهن ۾ سندس نالو ورتو وڃي جنهن ۾ صبح ۽ شام سندس تسبيح ڪندا آهن.[6]انهن آيتن مان معلوم ٿيو ته هر اها جڳهه ۽ گهر جتي الله تعالى جي ڪلمي جي بلندي ۽ ان جي حڪم کي نشر ڪيو وڃي اهو واجب آهي،ڇو جو آيت ۾ اذن وجوب تي دلالت ڪري ٿو نه ڪه جواز تي۔[7]

هاڻ مومنن کي گهرجي ته شعائر حسيني کي زنده ڪن ڇو جو شعائر حسيني شعائر الله آهن،۽ شعائر الله تقوى پروردگار جي حصول لاءِ سامان فراهم ڪري ٿو.

عزاداري ۾ شريڪ ٿيڻ سان اهلبيت ؑ سان اخلاص ۽ محبت کي ظاهر ڪري ٿو،جيڪو به عزاداري ، وعظ ، نصيحت ۽ مصيبت جي مجلسن ۾ شريڪ ٿئي ٿو ڄڻ ته ان پنهنجي عمل سان عزاداري کي زندگي بخشي ۽ پنهنجي هن عمل ذريعي دنيا وارن کي ٻڌائي ٿو ته دين جي محافظن ڪيڏين قربانين سان هن دين کي زنده رکيو آهي،ڪربلا جي شهيدن جي فاقد النظير قرباني ۾ وڏا راز ۽ سبق سمايل آهن،ڀٽائيؒ پڻ هن ريت تذڪر ڏياريو آهي

دوست ڪهــــــــائي دادلا،  محب مـــــــارائـــــي،

خاصن خليلــــن کــــي،  سختيون سهـــــــائـــــــي،

الله الصمد، بي نياز،  ســـــا ڪري، جــــا چاهـي،

انهين منجهه آهي ،  ڪا اونهي ڳالهه اسرار جي. 

سختي شهادت جي، نسوروئي نـــــاز،

رند پروڙين راز، قضيي ڪربلا جــو.

 

آئمه معصومين ؑ به ان واقعي کي ياد رکڻ لاءِ هر اعتبار کان ڪوشش ڪئي آهي،۽ مڃيندڙن کي ان بابت مسلسل رغبت ڏياريندا رهيا،نموني طور هڪ اڌ روايت عرض ڪجي ٿي،

عَنِ الرِّضَا عليه السلام

"1۔ يَا ابْنَ شَبِيبٍ: إِنْ كُنْتَ بَاكِياً لِشَيْ‏ءٍ فَابْكِ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ،ؑ فَإِنَّهُ ذُبِحَ كَمَا يُذْبَحُ الْكَبْشُ، وَ قُتِلَ مَعَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ شَبِيهُونَ، وَ لَقَدْ بَكَتِ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَ الْأَرَضُونَ لِقَتْلِهِ .

2۔ يَا ابْنَ شَبِيبٍ: "إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَكُونَ مَعَنَا فِي الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجِنَانِ فَاحْزَنْ لِحُزْنِنَا وَ افْرَحْ لِفَرَحِنَا وَ عَلَيْكَ بِوَلَايَتِنَا،

امام رضا عليه السلام فرمائن ٿا؛

اي شبيب جا پٽ! اگر روئڻ چاهين ٿو ته حسين بن علي ؑ تي رو،  جنهن کي ائين ڪٺو ويو جئين رڍ کي ڪٺو ويندو آهي ،۽ ان سان گڏ بني هاشم جي اهڙن ارڙهن جوانن کي به قتل ڪيو ويو، جن جهڙا زمين تي ڪونهن ڪي ، حسين ؑ  جي قتل تي ست آسمان ۽ ست زمين رنا۔

اي شبيب جا پٽ!اگر تون چاهين ٿو ته جنت جي اعلى درجن ۾ اسان سان گڏ هجين ته اسان جي غم ۾ غم ڪر ۽ اسان جي خوشي ۾ خوشي،۽ اسان جي ولايت سان متمسڪ رهه..... [8]

امام جعفر صادق ؑ  ابي هارون مڪفوف کي فرمائن ٿا؛......جنهن وٽ حسين ؑ  جو ذڪر ڪيو وڃي ۽ ان جي اکين  مان مکي جي پر برابر به ڳوڙها ڳڙي پون ته ان جو اجر الله تعالى وٽ جنت کان گهٽ ڪونهي[9]

شعائرِ حسيني جي ايڏي وڏي اهميت هجڻ جي باوجود به جڏهن محرم الحرام جو چنڊ نظر ايندو آهي ته ڪجھ مومن شعوري يا غير شعوري طور تي اهڙن مسئلن کي بيان ڪندا آهن جنهن سان عزادارن ۾ شدت ۽ نفرت وارو ماحول پيدا ٿي وڃي ٿو،۽ احياء عزاداري مان ڪجھ حد تائين توجه هٽجي وڃي ٿي، بجاءِ ان جي جو انهن ڏينهن ۾ امام ؑ  جي مظلوميت کي دنيا سامهون پيش ڪرڻ لاءِ انسان وسون نه گهٽائي، هڪ ٻئي تي پنهنجي نظري ۽ سوچ کي مسلط ڪرڻ جي لاءِ ڀرپور ڪوشش ڪئي ٿي وڃي، انهن مسئلن مان هڪ مسئلو زنجير زني يا قمه زني ذريعي عزاداري ڪرڻ جو آهي، ان ۾ ڪو شڪ نه هجڻ گهرجي ته هي مسئلو به ٻين فقهي مسئلن کان الڳ ناهي،بلڪل معقول ۽ منطقي ڳالهه آهي ته جهڙي ريت روئيت هلال ، مناسڪ حج،وغيره جهڙن  مسئلن ۾ جتي هڪ مرجع جا مقلد روزي ۾ هوندا آهن ته ٻئي مرجع جا مقلد عيد ڪري رهيا هوندا آهن، هر هڪ مڪلف پنهنجي پنهنجي مرجع تقليد جي فتوى تي عمل ڪندو آهي،هي مسئلو به انهن کان الڳ ڪونهي،پر عجب جوڳي ڳالهه اها آهي ته ان مسئلي ۾ صاحبان علم مد مقابل کي وحشي،درندگي، حيوانيت ۽ خوني جهڙن قبيح لفظن سان طعنه ڏيڻ ۾رڌل نظر اچي رهيا آهن.

رت جي ذريعي عزاداري ڪرڻ کي آية الله العظمى سيد خامنه اي حفظه الله،مذهب جي اهانت جي ڪري مطلقا حرام قرار ڏنو آهي۔" قمه زني علاوه بر اين که از نظر عرفي از مظاهر حزن و اندوه محسوب نمي شود و سابقه اي در عصر ائمهؑ  و زمان هاي بعدي از آن و تائيدي هم به شڪل خاص يا عام از معصومؑ در مورد آن نرسيده است ، در زمان حاضر موجب وهن و بدنام شدن مذهب مي شود بنا بر اين در هيچ حالتي جايز نيست“

زنجیر زني ڪرڻ عرف ۾ ڏک ۽ غم کي ظاهر نٿو ڪري،۽ پهرين دور ۾ به آئمه معصومين ؑ کان خاص ۽ عام طريقي سان ڪا تائيد حاصل ڪانهي، ۽ موجوده

زماني ۾ مذهب جي بدنامي جو سبب آهي ان ڪري ڪنهن به حالت ۾ جائز ناهي[10]۔ سائينءَ جن جي مقلدن لاءِ نه رڳو هي عمل حرام بلڪه ان جي تشهير ڪرڻ به حرام آهي،ڇا ڪاڻ ان سان مذهب جي اهانت لازم اچي ٿي. اهڙي ريت آية الله ناصر مڪارم شيرازي دام ظله به رت ذريعي ماتم ڪرڻ کي حرام قرار ڏنو آهي۔[11]

جڏهن ته فقهاءِ ڪرام جي هڪ وڏي تعداد ان مسئلي کي شعائر حسينيه منجهان مڃي ٿي ان ڪري نه رڳو ان جي جواز بلڪه ڪجھ ان جي استحباب جا به قائل آهن.

سابق فقهاءَ منجهان حوزه علميه قم المقدس جي باني آية الله عبدالڪريم حائري قده وٽ به رت جو ماتم ڪرڻ جائز هو.

سوال؛هل يجوز ضرب القامات على الراس في يوم عاشوراء؟ جواب؛اذا لم يکن مضرا بالنفس فجائز.

سوال؛ڇا عاشور جي ڏينهن سر تي ڇرا هڻڻ جائز آهي؟ جواب؛ اگر نفس جي لاءِ هاڃيڪار نه هجن ته جائز آهي [12]

رئيس الفقهاءَ ميرزا نائيني قدس سره پهريان ان مسئلي ۾ توقف اختيار ڪيو ۽ بعد ۾ ان کي جائز قرار ڏنو۔[13] استاد الفقهاءَ سيد ابوالقاسم خوئي قدس سره به ان مسئلي ۾ جواز جا قائل هئا،ان ڏانهن اها ڳالهه منسوب ڪرڻ  ته سائين جن حرمت جا قائل هئا نسورو ڪوڙ آهي۔[14] آية الله وحيد خراساني حفظه الله ،آية الله سيد سعيد الحڪيم حفظه الله، آية الله بشير حسين نجفي حفظه الله،آية الله اسحاق فياض حفظه الله،آية الله جواد تبريزي قدس سره

۽ ڪجھ ٻيا مراجع عظام به جواز جا قائل آهن.

جڏهن ته آية الله سيد سيستاني حفظه الله ان مسئلي ۾ توقف اختيار ڪيو آهي،ان ڪري ان جا مقلد ان مسئلي ۾ فالاعلم جي طرف رجوع ڪندا،اهي ڳالهه واضح هجڻ گهرجي ته جنهن طريقي سان اعلم مجتهد سڄاتو ويندو آهي انهيءَ طريقي موجب فالاعلم جي به تشخيص ٿيندي آهي.

ان  باوجود به ڪجھ عزادار اجتهاد جي ذميواري پنهنجي هٿن ۾ کڻن ٿا،۽ قياس ۽ استحسان جي ذريعي مدارک ۽ ادله ۾ جرح ڪرڻ جي جرات ڪن ٿا ۽ زنجير زني جي جواز يا عدم جواز تي پنهنجا هٿ جا دليل پيش ڪن ٿا ،جيڪو وڏو ڳڻتي جوڳو عمل آهي، ۽ هن عربي چوڻي جا مصداق بڻجي وڃن ٿا”حفظت شيئا و غابت عنک اشياء“  هڪ شيء کي ياد ڪيو اٿن جڏهن ته گهڻيون شيون انهن کان اوجهل آهن.

رت ذريعي ماتم ڪرڻ جي حرمت تي چند دليلون ذڪر ڪيون وڃن ٿيون ، جيڪي قابلِ جواب آهن.

پهرين دليل؛رت جو ماتم ڪرڻ پنهنجي پاڻ کي مارڻ جي برابر آهي، جواب؛1؛رت جي ذريعي ماتم ڪرڻ سان موت جو واقع ٿيڻ ناهي ٻڌو ويو. 2؛اگر رت ذريعي موت واقع ٿئي ته رڳو ايتري حد تائين ڪيل ماتم حرام ٿيندو ۽ جنهن کي فقهاءِ ڪرام شرط طور ذڪر به ڪيو آهي ته ” نفس جي ضرر يا ڪنهن عضوي جي ڪٽجڻ يا ناڪاره ٿيڻ جو سبب نه ٿئي“.

ٻي دليل؛قرآن مجيد ۾ آيو آهي ته”ولا تلقوا بايديڪم الى التهلڪه،پنهنجي پاڻ کي هلاڪت ۾ نه وجهو، [15]رت جو ماتم  پنهنجي پاڻ کي هلاڪت ۾ وجهڻ جي برابر آهي جنهن کان منع ڪيو ويو آهي.

جواب؛1؛هن آيت مان اخروي هلاڪت مراد آهي،يعني ڃاڻي واڻي اهڙا ڪم نه ڪيو جنهن سان عذابِ خداوندي جا مستحق بڻجي وڃو،

2؛اگر دنيوي هلاڪت به تسليم ڪئي وڃي ته رڳو ان حد تائين رت جو ماتم ڪرڻ حرام ٿيندو جيڪو موت جو سبب ٿئي نه ڪه اهو عمل مطلقا حرام بڻجي ويندو.

ٽئين دليل؛رت جو ماتم توهينِ مذهب جو سبب آهي.

جواب؛1؛ان دليل مان اهو ثابت ٿئي ٿو ته رت جو ماتم حڪمِ ثانوي سان حرام آهي،ان جي حرمتِ ذاتي تي ڪا دليل ڪانهي۔[16]

2؛توهينِ مذهب ان صورت ۾ ثابت ٿيندي جڏهن ان علائقي جو عرف جتي عزاداري ڪئي وڃي ان کي توهينِ مذهب سمجهي، جڏهن ته اهو عمل صدين کان ٿيندو ٿو اچي ۽ ان علائقي جا ماڻهو ان کي توهينِ مذهب نٿا سمجهن  بلڪه  مذهب جي مظلوميت ۽ سڄاڻپ سمجهن ٿا.

اگر چيو وڃي ته يورپ جو معاشرو ان کي قبول نٿو ڪري، ته يورپ جو معاشرو اسلام جي ڪيترن ئي احڪامن تي ٽوڪون ڪندو آهي،جهڙوڪ چور جو هٿ ڪٽڻ،زاني تي حد جاري ڪرڻ، حج دوران ڪفاري طور جانورن جو ذبح ڪرڻ ، بلڪه هو ته احرام پائڻ ۽ سڄي دنيا مان ڪعبة الله جي طواف لاءِ اتي وڃڻ کي به غير فطري ۽ مجنونن واري عمل سان تعبير ڪندا آهن.

چوٿين دليل؛ان ماتم سان نفس کي ضرر پهچي ٿو ۽ اضرار نفس حرام آهي.

جواب؛1؛ اسلام ۾ هر قسم جو ضرر حرام ڪونهي، جهڙوڪ حجامت ڪرائڻ، سر ۾ وار هڻائڻ لاءِ سر کي زخمي ڪرڻ، ڪنن ۾ سوراخ ڪرڻ،ختنو ڪرڻ وغيره، جن ۾ ڪجھ حد تائين ضرر لازم اچي ٿو،جڏهن ته اهو ضرر حرام ڪونهي.

2؛اسلام ۾ اهو ضرر حرام آهي عرف جنهن کي ضرر سمجهي، ۽ قابلِ تحمل نه هجي،يا عضوي جي ڪٽجڻ يا ناڪاره ٿيڻ جو سبب ٿئي،۽ اگر اهڙو ضرر هجي ته ان جي فقهاءِ ڪرام شرط لڳائي ڇڏي آهي ته ان تائين حرام آهي۔

پنجين دليل؛اهڙي قسم جي ماتم ۾ضرر جو احتمال پاتو ٿو وڃي ۽ عقلمند کي گهرجي ته احتمالي ضرر کان پاڻ کي بچائي.

جواب؛جي  هاءُ ان ماتم ۾ ضرر جو احتمال پاتو وڃي ٿو، ليڪن ضرر جي احتمال ڪري اگر ڪو عمل حرام ٿي سگهي ها  ته پوءِ جهاز ۾ سفر ڪرڻ، يا گاڏين ذريعي سفرڪرڻ،يا عورت جو حمل سان هجڻ به حرام هجڻ گهرجي ها ڇو جو انهن ۾به ضرر جو احتمال پاتو وڃي ٿو، ۽ ڳاڻيٽي موجب پاڪستان ۾ هزارن نه ته سون جي تعداد هر روز عورتون وضع حمل دوران مري وڃن ٿيون،يا ماڻهن جا ايڪسيڊنٽ ٿين ٿا.

ڇهين دليل؛ان ماتم ذريعي انسان کي تڪليف ٿئي ٿي ۽ الله ته انسان لاءِ آساني چاهي آهي ڏکيائي نه.

جواب؛اسلام ۾ ڪجھ اهڙا احڪام آهن جيڪي ظاهري طور تي انسان کي تڪليف پهچائن ٿا پر ان باوجود به اهي مطلوب ۽ پسنديده عمل آهن،جهڙوڪ گرمي ۾ روزا رکڻ،حج تي وڃڻ،وغيره،۽ هي عمل به انهن منجهان هڪ آهي.

امام جعفر صادق ؑ امامِ مظلوم ؑ  جي زيارت ڪندڙن لاءِ دعا ڪن ٿا ”اللهم.....فارحم تلک الوجوه التي غيرتها الشمس، اي الله انهن چهرن تي رحم فرماء جنهن کي سج جي تپش متغير ڪري ڇڏيو آهي“۔[17]

امام ؑ  جي زيارت جنهن سان منهن تپي وڃن ٿا،جيڪو يقينا تڪليف کان خالي ناهن ان باوجود به امام ؑ  انهن جي لاء دعا ڪن ٿا.

 قرآن مجيد ۽ روايات مان ان مطلب تي وڌيڪ روشني

1؛حضرت يعقوبؑ پنهنجي پٽ تي ايترو رنا جو ان جون اکيون اڇون ٿي ويو، قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ

” پٽ چوڻ لڳا، اوهين ته هميشه يوسف کي ايستائين ياد ڪندا رهندو جو يا ته بيمار ٿيو يا جان تان هٿ کڻندو. [18]

شيخ صدوق ؒ  علل الشرائع ۾ ذڪر ڪن ٿا؛رسول اڪرم صہ فرمائن ٿا؛ان شعيبا بکى حتى عمى، فرد الله عليه بصره،ثم بکى حتى عمى،فرد الله بصره،ثم بکى حتى،فرد الله عليه بصره..

حضرت شعيب ؑ  ايترا رنا جو اکين جو نور ختم ٿي ويو، پوءِ الله تعالى کيس روشني واپس ڏني،پوءِ به ايترا رنا جو اکين جو نور ختم ٿي ويو،پوءِ به الله تعالى کيس نور واپس ڏنو،پوءِ به ايترا رنا جو اکين جو نور ختم ٿي ويو،پوِ به الله تعالى کيس نور عطا ڪيو...[19]

2؛امام سجاد ؑ پنهنجي بابا تي ايترا رنا جو سندن اکين جي ضايع ٿيڻ جو خوف هو۔[20]ڪجھ روايتن ۾ آهي ته پاڻ ايترا روئيندا هئا جو سندس روح ڪفصِ انصري مان پرواز ڪري وڃڻ جو خوف هوندو هو[21]

3؛امام سجاد ؑ جڏهن شهداءَ جي جنازن کي ڏٺو،ته حالت اهڙي بڻجي وئي هئي جو عنقريب روح پرواز ڪري وڃي، جناب سيده زينب سلام الله عليها سندس جي حالت ڏسي فرمايو ٻچڙا ڏسان ٿي ته توهان پنهنجي پاڻ کي بلڪل ڇڏي ڏنو آهي۔[22]

4؛اهي روايتون به ان مطلب جي تائيد ڪن ٿيون جيڪي ڊڄ ۽ خوف جي حالت ۾ به امام حسين ؑ جي زيارت ڪرڻ جو حڪم ڏين ٿيون.

نموني طور رڳو هڪڙي روايت ذڪر ڪيون ٿا،

عن زرارة، قال : قلت لأبي جعفر ؑ : ما تقول فيمن زار أباك على خوف، قال : يؤمنه الله يوم الفزع الأكبر وتلقاه الملائكة بالبشارة، ويقال له : لا تخف ولا تحزن هذا يومك الذي فيه فوزك،

زراره نقل ڪن ٿا؛مان امام محمد باقر ؑ  عرض ڪيو مولا اوهان ان ماڻهوءَ بابت ڇا ٿا فرمايو جيڪو خوف جي حالت ۾ به اوهان جي بابا جي زيارت ڪري،امام ؑ  فرمايو، الله تعالى ان شخص کي وڏي سختي واري ڏينهن امان ۾ رکندو،۽ ملائڪ ان کي مبارڪون ڏيندا،۽ ان کي چيو ويندو،ته اڄ نه ڊڄ ۽ نه وري ڏک ڪر،هي تنهنجي ڪاميابي جو ڏينهن آهي۔[23]

5؛امام علي رضا ؑ  فرمائن ٿا؛حسينؑ جي مصيبت اسان جي پلڪن کي زخمي ڪري ڇڏيو آهي،۽ اسان جي نيرن کي وهايو آهي۔[24]

6؛بيبي زينب سلام الله عليها پنهنجي پيشاني کي محمل سان ٽڪرايو ايستائين جو رت وهڻ لڳي۔[25]

آية الله محمد حسن نجفي بيان ڪيو آهي ته سيد زادين جو پنهنجي منهن تي ماتم ڪرڻ تي رواياتِ متواتر موجود آهن۔[26]

عاشور جي ڏينهن جڏهن امام حسين ؑ  هي شعر پڙهندا هئا”يا دهر اف لڪ من خليل“ته بيبي زينب سلام الله عليها اهو ٻڌي پنهجي منهن تي ماتم ڪندي بيهوش ٿي ويندي هئي۔[27]

7؛دعبل خزاعي امام علي رضا ؑ  جي سامهون هي مرثيو پڙهيو ؛أفاطم لو خلت الحسين مجدلا  وقد مات عطشانا بشطفرات ، إذا للطمت الخد فاطم عنده  وأجريت دمع العين في الوجنات

اي فاطمه (س) تون حسين ؑ کي جنگ ڪندي ڏسين ها، جنهن کي وهندڙ دريا جي ڪناري اڃارو ماريو ويو،ته ضرور تون منهن تي ماتم ڪرين ها ۽ اکين مان نير وهائين ها۔[28]

امام ؑ دعبل کي نه رڳو اهو پڙهڻ کان نه  روڪيو بلڪه ان جي عوض ان کي تحفو پڻ ڏنائون،اگر منهن تي ماتم ڪرڻ پسنديده عمل نه هجي ها ته امام ؑ  دعبل کي ان فعل جي جناب سيده سان نسبت کي رد ڪن ها.

مذڪوره سڀ عمل اگر چه قابلِ تڪليف آهن پر ان باوجود به مطلوب آهن.

ستين دليل؛زنجير زني ۽ قمه زني آئمة معصومين ؑجي دور ۾ نه هي.

جواب؛1؛استنباط احڪام جي لاءِ ڪنهن به فقيه، عمل جو امام ؑ  جي دور ۾هجڻ کي شرط قرار ناهي ڏنو.

2؛اگرڪنهن فعل جي جواز لاءِ امام ؑ جي دور ۾هجڻ شرط قرار ڏنو وڃي ته کوڙ سارن مسئلن کان هٿ کڻڻو پوندو، جهڙوڪ،موجوده زماني ۾متعارف طريقي سان عزاداري به سابق دور ۾نه هئي،امام بارگاهن جو وجود،يوم القدس ملهائڻ،تابوت برآمد ڪرڻ،يا عملي طور تي واقع ڪربلا کي پيش ڪرڻ وغيره.

اٺين دليل؛ عزادارن کي گهرجي ته پنهنجي رت کي ضايع ڪرڻ جي بدران ان جو عطيو ڏين،تاڪه محتاج ماڻهن جي زندگي بچائڻ جو ذريعو ٿئي،جهڙي ريت آية الله ناصرمڪارم شيرازي حفظه الله ان بابت ترغيب ڏيندي بيان پڻ جاري ڪيو آهي.

 نوٽ؛جيڪي سائين جن جا مقلد آهن انهن کي گهرجي ته سائين جي فتوى تي عمل ڪن،۽ رت جي ذريعي ماتم ڪرڻ بدران ان جو عطيو ڏين) مگر ان دليل کي ٻين مراجع عظام جي مقلدن لاءِ بيان نٿو ڪري سگهجي،ان جي وجه هيٺ جواب ۾ ملاحظه ڪري سگهجي ٿي.

جواب؛1؛رت جو عطيو ڏيڻ هڪ سٺو عمل آهي،پر ان جو شمار شعارِ حسينيه مان نٿو ٿئي،۽ ان کي عزاداري جو ثواب نه ملندو.

آية الله جواد تبريزي رت جي عطيه بابت فرمائن ٿا” هن عمل جو عزاداري سان ڪو واسطو ڪونهي۔[29]

آية الله سيد سعيد الحڪيم ان متعلق فرمائن ٿا”اسان جي لاءِ اهو ممڪن ڪونهي جو اسان عزاداري جي ثواب ۾ڪنهن به ٻئي عمل جو موازنو ڪيون“[30]

2؛رت ذريعي ماتم ڪندڙن جو تعداد نه ڪندڙن جي بنسبت هٿن تي ڳڻڻ جي برابر آهي،انڪري جيڪي زنجير زني نٿا ڪن اهي رت جو عطيو ڏين.

آخري دليل؛زنجير زني کان رهبرِ معظم حفظه الله روڪيو آهي،انڪري سڀني مجتهدن جي مقلدن لاءِ ضروري آهي ته هن مسئلي ۾ سائين جن جي فتوى تي عمل ڪن.

جواب؛سڀ کان پهريان اها ڳالهه واضح هجڻ گهرجي ته رهبرِ معظم (حفظه الله) جون ٻه حيثيتون آهن،هڪ ته سائين مرجع تقليد آهي، ۽ ٻيو ته هڪ اسلامي ملڪ تي انجي حڪومت ۽ ولايت آهي.

اگر مثال جي طور تي اگر سائين وٽ چنڊ ثابت نه ٿئي جڏهن ته هڪ ٻي مجتهد وٽ چنڊ ثابت ٿئي، ته ڇو جو ولي فقيه وٽ چنڊ ثابت ناهي انڪري هن مسئلي ۾ سڀني مڪلفن بشمول مجتهدن جي لاءِ ضروري آهي ته ان مسئلي ۾ ولي فقيه جي اتباع ڪن!!؟

هتي اهو جواب ڏنو ويندو آهي  ته هي حڪم رڳو سائين جي مقلدن لاءِ حجت آهي باقي هر ڪو پنهنجي مجتهد جي مسئلي تي عمل ڪري۔بس پوءِ زنجير زني جو مسئلو ان کان مختلف ڇو آهي؟

جواب ڏئي سگهجي ٿو ته زنجير زني واري فتوى هڪ ولايتي ۽ حڪومتي فتوى هجڻ جي حيثيت سان آهي، انڪري ان جو نفاذ سڀني تي ٿيندو.

اهڙي جواب ڏيڻ وارن کان اهو سوال آهي ته ڇا سائين رهبر صاحب جا حڪومتي(سرڪاري)احڪام دنيا جي مختلف علائقن ۾ موجود سائين جن جي سڀني مقلدن لاءِ به لازم آهن ۽ ان کان وڌيڪ اهو ته ٻين مراجع جي مقلدن لاءِ به انهن جو مڃڻ لازم آهي؟

مختصر اهو ته سائين جن جي احڪامِ حڪومتي جي حد ڪيستائين آهي؟

ان سوال جي جواب ۾ رڳو آيه الله ناصر مڪارم شيرازي جي ڪلام تي اڪتفى ڪيون ٿا جنهن ۾ سائين واضح فرمايو آهي ته ولايت جي حد رڳو ايران تائين محدود آهي.

” سوال؛.آيا دايره ولايتِ فقيه مختص به ايران است؟

جواب؛......ولايت فقيه مربوط بڪشور ايران ميشود، ولي فتوى مرجع تقليد براي همه درهر جا معتبر است“

سوال؛.... ڇا ولايتِ فقيه فقط ايران سان مخصوص آهي؟

جواب؛جي هاولايت فقيه ايران سان مخصوص آهي،باقي مرجع تقليد مجتهد جي فتوى سڀني لاءِ ۽ هر هنڌ نافذ ٿيندي۔[31]

جڏهن ته ڪجھ فقهاءِ ڪرام ان بابت به وضاحت ڪئي آهي ته جڏهن هڪ مجتهد جي فتوى ٻي مجتهد جي فتوى سان ٽڪرائي ته ان صورت ۾ اگر ولي فقيه هڪ  اهڙو حڪم جاري ڪري جيڪو مفادِ عامه جي لاءِ هجي ته فقط ان صورت ۾ ان جي اتباع ڪئي ويندي،باقي ديني احڪام جهڙوڪ شعائرِ حسينيه ۾ اختلاف جي  صورت ۾ هر مقلد پنهنجي مرجع تقليد جي پيروي ڪري،

سائين سيستاني (حفظه الله ) کان اهو سوال ڪيو ويو ته پاڻ  فرمايائون ”مقلد پنهنجي مرجع ڏانهن  رجوع ڪري“ ۔ [32]

سوال؛مارايڪم الشريف في حڪم الحاڪم الشرعي في مسئله الشعائر الحسينيه هل تعتبر نافذة على الجميع؟

جواب؛لا موضوع لحڪم الحاڪم في المسائل المذڪوره في مفروض السوال والشعائر الحسينيه مستحبة  و محبوبة عندالله تعالى.

سوال؛اگر حاڪم شرعي شعائر حسينيه جي مسئلي ۾ ڪو حڪم جاري ڪري ته ڇا اهو سڀني تي نافذ ٿيندو؟

جواب؛ان مسئلي ۾ حاڪم شرعي مداخلت نٿو ڪري سگهي، شعائر حسينيه مستحب ۽ خدا تعالى وٽ محبوب آهي.[33]

آية الله ميرزا جواد تبريزي قدس سره،مفروضه سوال جي جواب ۾فرمائن ٿا”بسمه تعالى،يجب على المڪلف في هذه المسئلة ڪما في سائر المسائل ان يرجع الى مقلده الواجد لشرائط التقليد“

ٻين مسئلن وانگر هن مسئلي ۾ به مڪلف پنهنجي جامع شرائطِ مجتهد ڏانهن رجوع ڪري،[34]

آية الله سيد محمد صادق الحسيني الروحاني دام ظله ، ڪتاب التقليد و العقائد جيڪو استفتائات جو مجموعه آهي ۾ذڪر ڪن ٿا ته”هر مڪلف مفروضه مسئلي ۾ پنهنجي مرجع ڏانهن رجوع ڪري“

آية الله محمد تقي بهجت”ان صورت ۾ مجتهد پنهنجي مرجع تقليد جي فتوى تي عمل ڪري۔[35]

ايتري ڊگهي تفصيل ان ڪري ذڪري ڪئي وئي تاڪه معلوم هجڻ گهرجي ته مفادِ عامه جي مسائل کان علاوه ان ملڪ ۾ جتي هڪ فقيه جي حڪومت هجي اتي به مسائل شرعيه ۾ هر مڪلف پنهنجي پنهنجي مجتهد ڏانهن رجوع ڪندو،ان باوجود به جبري طور تي سڀني کي ڪجھ مسائلِ شرعيه جهڙوڪ زنجير زني وغيره بابت مجبور ڪرڻ تي باقي مجتهدين ڪرام پنهنجا پنهنجا تحفظ ظاهر ڪيا آهن.

ان بيان سان بدرجه اولى عام اسلامي توڙي غير اسلامي ملڪن ۾ موجود عزادار هن مسئلي ۾ پنهنجي پنهنجي مرجع  تقليد جي فتوى  تي عمل ڪندا.

دليل برائت عن الحرمة

اگر مٿي ذڪر ڪيل تمام دليلن کان چشم پوشي ڪئي وڃي ته به  زنجير زني واري مسئلي جي حرمت بابت شڪ ٿئئ ٿو ان صورت ۾ اهو  شبه بدويه آهي ۽ شبه بدويه ۾ برائت عن الحرمة جاري ڪري جواز ثابت ڪري سگهجي ٿو.

آخري ۾ وري ان ڳالهه جو تذڪر ڏيارجي ٿو ته جيستائين انسان اجتهاد جي درجي تي نه پهچي ان کي ڪو حق ڪونهي جو هو احڪامِ شرعيه جي مدارک ۾ جرح ڪري يا قياس ۽ استحسان سان پاڻ وٽان دليلون ڏئي،جهڙي ريت زنجير زني جي جواز تي به  وري ڪجھ عزادار  اويس ڪرني ۽ زنانِ مصر وغيره جهڙيون دليلون ذڪر ڪندا آهن،يا اهو ته عزاداري اظهار عشق آهي ۽ ان ۾ انسان ڪنهن به قيد و بند جو محتاج ڪونهي، جڏهن ته ڪنهن به اعتبار کان اهي دليلون نٿيون ٿي سگهن، اسان  عبد،۽ ٻانها آهيون ۽ عبد جو ڪو به اختيار ناهي هلندو، ان جو پورو وجود ئي  وڪاميل آهي،خاص ڪري  احڪامِ شرعيه جو اثبات  ته هڪ دقيق ۽ مشڪل ترين ڪم آهي ان ڪري اهو ڪم اهلِ اختصاص لاءِ ڇڏيو وڃي ،۽ جيڪو شخص اجتهاد جي منزل تائين ناهي پهتو ان کي گهرجي ته پنهنجي پنهنجي مرجع تقليد جي فتوى تي عمل ڪري اهو ئي هن پر آشوب دور ۾ بهترين راه نجات آهي.

پروردگار منهنجي هن مختصر لکڻي کي پنهنجي بارگاه ۾ قبول فرمائي ۽ سڀني عزدارن کي متحد ٿي ڪري سيد الشهداء جي با مقصد عزاداري نصيب فرمائي،۽ ڪربلا ۾ بي دردي سان ڪٺل شهيدن جي منتقم عجل الله فرجه الشريف جو جلدي ظهور فرمائي.

 

 

 



[1] ۔(الحج)

[2] .(المعاني)

[3] ۔(شعائر الدينيه لآيه الله سند ص11)۔

[4] ۔(الحج)

[5] ۔(توبه 32)

[6] ۔( سوره نور آيه 36)

 

[7] ۔(شعائر الدينيه لآية الله السند ص 14)

[8] ۔(وسائل الشيعة:ج  14 ص 502)

[9] ۔(ڪامل الزيارات ص 204)

[10] ۔(استفتائات 1461)

[11] ۔ aparat.com/v/y5hbc

[12] ۔(منتخب المسائل للحائري؛ص 176 طبع 1343هه)

[13] ۔(شعائر حسينيه لشيخ بشير نجفي ص 132)

[14] ۔(شعائر الحسينيه لميرزا جواد تبريزي قده ص 89،۽ شعائر الحسينيه لشيخ بشير نجفي دام ظله ص 133)

[15] ۔(بقره 195)“

[16] ۔(شعائر الحسينيه لآية الله سيد جعفر العاملي)

[17] ۔(ڪامل الزيارات ج 2 باب 40 )

[18] ۔“(يوسف،85)

[19] علل الشرائع ج1 ص 54)

[20] ۔،(بحار ج46 ص108)

[21] ۔.(ڪامل الزيرات ص107)

[22] ۔(بحار ج28 ص 57)

[23] ۔،(ڪامل الزيارات للبهائي ص 232)

[24] ۔(امالي الصدوق ص 113)

[25] ۔(بحار ج 54 ص 115)

[26] (جواهر الڪلام ج 4 ص 341)

[27] ۔(ارشاد للمفيد ص 233)

[28] ۔.(عيون اخبار رضا ج2 ص 263،بحار ج49 ص 237)

[29] ۔“(شعائر الحسينيه لميرزا جواد تبريزي

[30] ۔(رسمي ويب سائٽ)

[31] ۔.(رسمي ويب سائٽ، باب ولايت فقيه)

[32] ۔(الانتصار لشيخ علي ڪوراني العاملي ج9 فصل 8)آية الله اسحاق فياض دام ظله

[33] ۔ اسحاق فياض 16 ذوالحج 1427(استفتائات،الفياض ڊاٽ او آر جي)

[34] ۔(الانوار الالهيه في المسائل الاعتقاديه)

[35] ۔“(مجموعه استفتائات ج1 ص36 سوال 105)

+ نوشته شده در  ۱۳۹۷/۱۰/۱۳ساعت 3:15  توسط مفکر علی ناریجو  |